نشانِ حیدر حاصل کرنے والے پاک فوج کے عظیم سپوت کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی 27ویں برسی آج ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
کیپٹن کرنل شیر خان 1970 میں خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1999 کی کارگل جنگ کے دوران دشمن کے خلاف بے مثال جرات، دلیری اور قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے مادرِ وطن کا دفاع کیا۔
وہ محاذِ جنگ پر اپنے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے اور 5 جولائی 1999 کو جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی غیرمعمولی بہادری اور عظیم قربانی کے اعتراف میں انہیں پاکستان کے سب سے بڑے عسکری اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے الگ الگ پیغامات میں کیپٹن کرنل شیر خان شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دشمن کے سامنے بے مثال بہادری، عزم اور قربانی کی مثال قائم کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی قربانی قومی تاریخ کا ایک روشن باب ہے، جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے پیغام میں کہا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی وفاداری، فرض شناسی اور عظیم قربانی کی لازوال میراث ہمیشہ پاکستانی قوم کے دلوں میں زندہ رہے گی۔
دریں اثنا، پاک افواج اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے بھی کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی بے مثال جرات، غیرمتزلزل عزم اور وطن کے لیے عظیم قربانی کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں کہا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی لازوال قربانی آج بھی نئی نسلوں کے لیے حوصلے، حب الوطنی اور پاکستان کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے تحفظ کی روشن مثال ہے۔
آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج ان اعلیٰ نظریات کی پاسداری جاری رکھیں گے جن کے لیے کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، اور ان کی قربانی ہمیشہ قوم کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جاتی رہے گی۔
