چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ نظامِ انصاف میں احتساب کو یقینی بنایا جا رہا ہے، نظامِ انصاف میں بہتری محض فیصلوں سے نہیں بلکہ مؤثر عمل درآمد سے آئے گی۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے زیرِ اہتمام قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے تحت منعقدہ قومی کانفرنس برائے جیل اصلاحات سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ نظامِ انصاف میں بہتری محض فیصلوں سے نہیں بلکہ مؤثر عمل درآمد سے آئے گی ، نظامِ انصاف میں احتساب کو یقینی بنایا جارہا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جیلیں فوجداری نظامِ انصاف کی حقیقی عکاس ہیں، اور بامعنی اصلاحات کے لیے تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری اور صوبائی قیادت کا مسلسل کردار ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم این جے پی ایم سی کے قومی ایکشن پلان پر مربوط اور عملی اقدامات کے ذریعے عملدرآمد چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، عدلیہ، وفاقی و صوبائی حکومتوں، جیل انتظامیہ، انسانی حقوق کے اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
شرکاء نے قیدیوں کی بحالی، جیلوں کے نظم و نسق میں بہتری، اصلاحی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور وفاقی و صوبائی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اختتام پر جیل اصلاحات سے متعلق آئندہ کے لائحۂ عمل پر مشتمل اعلامیہ بھی منظور کیا گیا۔جس پر چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ نے دست خط کیے۔
