وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان اپنے دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے ساتھ ساتھ تمام تنازعات کے حل کے لیے امن، مذاکرات اور سفارتکاری کی پالیسی پر کاربند رہے گا۔
وہ ہفتہ کے روز پاکستان نیول اکیڈمی کراچی میں 125ویں مڈشپ مین اور 33ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آج دنیا میں ایک امن پسند اور مصالحتی کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر فخر سے کھڑا ہے، کیونکہ برادر ممالک کے تعاون سے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط ممکن ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر کا حالیہ دورۂ پاکستان نہ صرف دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کا مظہر ہے بلکہ یہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے اہم کردار کا اعتراف بھی ہے۔
وزیراعظم نے موجودہ سکیورٹی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد ہمارا مشرقی ہمسایہ بھارت ملک میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے خفیہ کارروائیوں اور پراکسی عناصر کے استعمال میں اضافہ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں پاکستان کی مسلح افواج، پوری قوم کی بھرپور حمایت سے، مغربی سرحد پر افغانستان سے جنم لینے والی بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں۔
وزیراعظم نے کشمیری اور فلسطینی عوام کے منصفانہ مؤقف کی حمایت کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا بھی اعادہ کیا۔
سمندری سلامتی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ حکومت پاکستان بحریہ کو ایک مضبوط، مؤثر اور جدید دفاعی قوت بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے تاکہ وہ قومی دفاع کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں سمندری استحکام کے فروغ میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکے۔
انہوں نے گزشتہ سال معرکۂ حق کے دوران پاکستان بحریہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحریہ نے اپنے دائرۂ کار میں عددی برتری رکھنے والے دشمن کو مؤثر انداز میں روکنے اور اس کی رسائی محدود کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
وزیراعظم نے آپریشن محافظ البحر کی کامیاب تکمیل پر بھی پاکستان بحریہ کو خراجِ تحسین پیش کیا، جس کے باعث مشکل علاقائی سکیورٹی حالات کے باوجود ملک کی بندرگاہوں تک توانائی کی ضروری سپلائی بلا تعطل جاری رہی۔
اس موقع پر وزیراعظم نے نوجوان کیڈٹس پر زور دیا کہ وہ کموڈور ایس ایم انور، کمانڈر ظفر محمد خان اور وائس ایڈمرل احمد تسنیم جیسے عظیم بحری ہیروز کی جرات، قربانی اور پیشہ ورانہ مہارت کی شاندار روایات کو برقرار رکھیں۔
وزیراعظم نے ترکیہ، بحرین، بنگلہ دیش، عراق، سری لنکا اور جبوتی سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس کی موجودگی پر بھی خوشی کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان نیول اکیڈمی میں حاصل ہونے والا تجربہ اور خوشگوار یادیں ہمارے ممالک کے درمیان دیرپا دوستی اور تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گی۔
