برآمدات پر مبنی ترقی اور عوامی ریلیف، وفاقی بجٹ 27-2026ء کا محور ہے: محمد اورنگزیب

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 کا مقصد برآمدات پر مبنی، پائیدار اور جامع معاشی ترقی کا حصول ہے، جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور نئے شعبوں کو اس میں شامل کرنے پر توجہ دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ٹیکس نظام میں مساوات اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں تنخواہ دار طبقے، چھوٹے کاروباروں، برآمدی اور تعمیراتی شعبوں کو ٹیکس ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ بجٹ میں برآمدی اور زرعی شعبوں کے لیے رعایتی مالی سہولیات کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ تاجروں اور ریٹیلرز کو ایک آسان ٹیکس نظام کے تحت ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کو مؤثر بنانے اور نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے بھی جامع اقدامات کیے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے "زرخیز اسکیم” کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کو بلاسود اور بغیر ضمانت قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 300 ارب روپے مالیت کی اس اسکیم سے سات لاکھ پچاس ہزار کسان مستفید ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے تحت زرعی شعبے کو 109 ارب روپے کے قرضے بھی فراہم کیے جائیں گے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت زرعی شعبے کی جدید کاری کے لیے درآمدی ڈیوٹی میں دو ارب روپے کی رعایت دے رہی ہے، جبکہ جدید زرعی مشینری اور آلات کی درآمد پر عائد ڈیوٹیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں تاکہ جدید کاشتکاری کو فروغ دیا جا سکے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام کے بعد عوام کو ریلیف دینے کا وعدہ اس بجٹ میں پورا کیا گیا ہے۔ انہوں نے بجٹ پر پارلیمان کے اندر اور باہر سے موصول ہونے والے مثبت ردعمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے ترقی دوست بجٹ قرار دیا جا رہا ہے جو پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھے گا۔

انہوں نے معاشی اشاریوں میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے کی صنعتوں میں 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق گزشتہ ماہ ترسیلات زر 4.25 ارب ڈالر رہیں اور توقع ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک یہ حجم 41 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبہ بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، خصوصاً ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ آئی ٹی برآمدات میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ان کا حجم 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو ایک نیا ریکارڈ ہوگا۔

وزیر خزانہ نے بجٹ پر تفصیلی بحث اور تجاویز دینے پر ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے روشن معاشی مستقبل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو تعاون جاری رکھنا چاہیے۔

Exit mobile version