سمندری شعبہ سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے: محمد جنید انور چوہدری

وفاقی وزیر برائے بحری امور  محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کا سمندری شعبہ بندرگاہوں، لاجسٹکس اور بلیو اکانومی کے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے، جو نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ علاقائی تجارتی روابط کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بات پاکستان سعودی عرب مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین منصور بن محمد آل سعود اور دیگر شرکاء کے ساتھ ایک آن لائن اجلاس کے دوران کہی۔

اجلاس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات موجود ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ ان تعلقات کو اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں مزید مضبوط بنایا جائے۔

محمد جنید انور چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کے وژن 2030 اور پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کے درمیان متعدد شعبوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے، جس کے باعث دونوں ممالک باہمی تعاون کے ذریعے بڑے پیمانے پر معاشی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سمندری معیشت، ساحلی ترقی، شپنگ، بندرگاہی انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے دونوں ممالک کے لیے سودمند ثابت ہوں گے۔

اجلاس کے دوران شرکاء نے کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر بندرگاہی سہولیات کی توسیع، کارگو ہینڈلنگ کی استعداد میں اضافے، جدید لاجسٹکس نظام اور علاقائی تجارتی راہداریوں سے استفادہ کرنے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے بحری بیڑے کی توسیع میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی شپنگ انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی شراکت داری انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کورنگی فش ہاربر اتھارٹی  میں تقریباً سو ایکڑ پر مشتمل ایک جدید آبی تحقیق اور ٹیکنالوجی پارک قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ماہی گیری کے شعبے میں جدید تحقیق، نئی ٹیکنالوجی کے استعمال، سمندری وسائل کے مؤثر انتظام اور برآمدات میں اضافے کو فروغ دینا ہے۔اجلاس کے شرکاء نے پاکستان کے سمندری شعبے میں موجود مواقع کو سراہتے ہوئے مستقبل میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول، شفاف پالیسیوں اور کاروبار دوست سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ پاکستان کو خطے میں تجارت اور سرمایہ کاری کا ایک اہم مرکز بنایا جا سکے۔

Exit mobile version