پاکستان اور چین کی آزمودہ دوستی کو نئی جہتوں سے آراستہ کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی آزمودہ دوستی کو نئی جہتوں سے آراستہ کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس تعلق کو مزید مضبوط شکل میں وراثت میں حاصل کریں۔

بیجنگ میں پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات اس بلند ترین مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان کی مثال نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ایک ایسے درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہیں اور جس نے ہمیشہ دونوں ممالک کو سایہ اور میٹھے ثمرات فراہم کیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ وقت دونوں ممالک کی دوستی کا سنہری دور ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں میں دونوں ممالک کے عظیم رہنماؤں کی محنت، لگن اور عزم سے یہ تعلق مضبوط ہوا ہے اور آج پاکستان اور چین ایک دل اور دو جان کی مانند ہیں جن کی دھڑکن ایک ساتھ چلتی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مشترکہ محنت اور مسلسل کوششوں کے ذریعے پاکستان میں چینی طرزِ معاشی ماڈل کی کامیابی جلد حاصل کی جا سکتی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ چین نے محنت اور مستقل مزاجی کے ذریعے غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے اور گزشتہ دہائیوں میں 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالنا ایک تاریخی کارنامہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین آج دنیا کی ایک بڑی معاشی اور عسکری طاقت کے طور پر ابھرا ہے اور اس کامیابی کا سہرا قیادت کے وژن اور عوام کی محنت کو جاتا ہے۔

وزیرِ اعظم نے چینی صدر شی جن پنگ کے وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت نے امن، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے عالمی تنازعات کے حل کو فروغ دیا ہے، جس کے باعث وہ دنیا کے سب سے بااثر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

Exit mobile version