اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے زیر اہتمام سالانہ عظیم الشان محفل میلاد مصطفی ا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا انعقاد

خصوصی تحریر

دنیا کے تمام رشتوں، محبتوں اور وابستگیوں میں سب سے بلند و مقدس تعلق حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق و عقیدت کا تعلق ہے۔ یہی وہ لازوال محبت ہے جو دلوں کو سکون، روحوں کو طہارت اور معاشروں کو امن و اخوت کا درس دیتی ہے۔ جب بھی عاشقانِ رسولؐ کسی بزمِ میلاد میں جمع ہوتے ہیں تو وہاں صرف محفل نہیں سجتی بلکہ رحمتوں، برکتوں اور نور کی بارش ہوتی ہے۔ خوشاب کی سرزمین پر اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین ضلع خوشاب کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی سالانہ عظیم الشان محفلِ میلاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایسی ہی ایک روح پرور اور ایمان افروز تقریب تھی جس نے حاضرین کے قلوب کو عشقِ رسولؐ کی خوشبو سے معطر کر دیا۔

اس بابرکت محفل میں آستانہ عالیہ حضرت سلطان باہوؒ کے ممتاز عالمِ دین علامہ مولانا مفتی منظور حسین نے خصوصی شرکت کی جبکہ صدارت ضلعی امیر صوفی محمد حاکم اعوان نے کی۔ محفل میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، دینی و سماجی شخصیات، تنظیمی عہدیداران اور عاشقانِ رسولؐ نے بھرپور شرکت کر کے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا۔ ضلعی صدر حاجی محمد اسحاق اور امیر اصلاحی جماعت تحصیل نورپورتھل ملک عمر دراز جوئیہ سمیت دیگر کارکنان کی موجودگی نے اس تقریب کو مزید پروقار بنا دیا۔

محفلِ میلاد کی سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ یہاں صرف رسمی تقاریر نہیں ہوئیں بلکہ قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات کو عام کرنے کا عملی پیغام دیا گیا۔ مولانا مفتی منظور حسین نے اپنے فکر انگیز خطاب میں اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ آج امتِ مسلمہ کو جن مسائل، آزمائشوں اور انتشار کا سامنا ہے، ان سے نجات کا واحد راستہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر کامل عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے اور اگر ہم اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھال لیں تو دنیا و آخرت کی کامیابیاں ہمارا مقدر بن سکتی ہیں۔

انہوں نے خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی دینِ اسلام کے فروغ اور اشاعت کے لیے گراں قدر خدمات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ عظیم ہستیاں قیامت تک امت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کا کردار عدل، دیانت، تقویٰ، رواداری اور خدمتِ انسانیت کا عملی نمونہ تھا۔ آج کے دور میں ہمیں انہی سنہری اصولوں کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرہ نفرت، انتشار اور بے راہ روی سے پاک ہو سکے۔

محفل میں عالمی تنظیم العارفین کی دینی و اصلاحی خدمات کو بھی بھرپور انداز میں سراہا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے دینی اجتماعات نہ صرف ایمان کو تازگی بخشتے ہیں بلکہ نوجوان نسل کو دینِ اسلام سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں جب مادہ پرستی، اخلاقی زوال اور بے مقصدیت بڑھتی جا رہی ہے، وہاں میلادِ مصطفیٰؐ جیسی محافل محبت، اخوت اور روحانی تربیت کا حسین ذریعہ بن کر سامنے آتی ہیں۔

محفل کے دوران معروف نعت خواں حضرات نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گلہائے عقیدت پیش کیے تو فضا درود و سلام کی صداؤں سے گونج اٹھی۔ عاشقانِ رسولؐ پر ایک روحانی کیفیت طاری ہو گئی۔ یہ وہ لمحات تھے جنہیں الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔

تقریب کے اختتام پر وطنِ عزیز پاکستان، عالمِ اسلام کی سلامتی، ترقی، اتحاد اور امن و خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ بلاشبہ آج پوری دنیا جن مشکلات اور چیلنجز سے گزر رہی ہے، ان حالات میں اتحادِ امت، دینی شعور اور محبتِ رسولؐ کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

یہ عظیم الشان محفل اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ خوشاب کی سرزمین آج بھی عشقِ رسولؐ کی خوشبو سے مہک رہی ہے اور یہاں کے لوگ دینِ اسلام سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین اور اس محفل کو کامیاب بنانے والے تمام منتظمین، خصوصاً ماسٹر ملک محمد یعقوب مغل، محمد ایوب بھٹی اور ان کے معاونین یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے نہایت احسن انداز میں اس روحانی اجتماع کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔

Exit mobile version