قومی اسمبلی کو آج آگاہ کیا گیا کہ نیشنل ویٹ پالیسی 2026-30 صوبوں سے مشاورت کے بعد تیار کر لی گئی ہے۔
پارلیمانی سیکریٹری فرح ناز نے وقفۂ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا کہ اس پالیسی کی منظوری بجٹ سے قبل کابینہ سے لی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے حکومت کے ایکشن پلان میں زرعی مشینری کے فروغ اور برآمدات بڑھانے کے لیے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام پر مشتمل جامع زرعی روڈ میپ شامل ہے۔
فرح ناز نے بتایا کہ بیجوں کے شعبے کو مضبوط اور جدید بنانے کے لیے نیشنل سیڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی گئی ہے، جس کا مقصد بہتر نگرانی اور زیادہ پیداوار دینے والی و موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ فصلوں کی اقسام کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی صحت خدمات نیلسن عظیم نے کہا کہ تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے اسپتالوں میں خصوصی علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں محفوظ خون کی منتقلی کی خدمات بھی شامل ہیں۔
توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت غیر قانونی امیگریشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2023 سے اب تک تین ہزار ایک سو اٹھاون ایجنٹس کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ اس جرم میں ملوث ایف آئی اے اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو عالمی برادری نے بھی سراہا ہے۔
کمبوڈیا میں جعلی بیرونِ ملک ملازمت اسکیموں کا شکار ہونے والے پاکستانیوں سے متعلق وزیرِ مملکت نے بتایا کہ حکومت نے زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرتے ہوئے متعدد پاکستانیوں کو کمبوڈیا سے واپس وطن منتقل کیا ہے۔
بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
