لاہور… ایک ایسا شہر جہاں تاریخ صرف کتابوں میں نہیں بلکہ فضا میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ اسی شہر کی شان، بادشاہی مسجد، لاہور پاکستان میں محفوظ مقدس تبرکات ایک ایسی داستان سناتے ہیں جو صدیوں پر محیط ہے۔ یہ صرف چند اشیاء نہیں بلکہ ایمان، اقتدار اور حیران کن واقعات کا ایک ایسا سفر ہیں جو عرب سے شروع ہو کر برصغیر تک پہنچا۔
ان تبرکات کا ابتدائی تعلق عرب کے سادات سے تھا، جہاں سے یہ دمشق اور پھر قسطنطنیہ، تاریخی شہر جو اب استنبول ہے کے قاضیوں تک پہنچے۔ وقت کے ساتھ تاریخ نے نیا رخ لیا اور سنہ 1401 میں تیمور، ترک-مغول فاتح نے دمشق فتح کیا۔ اس کے بعد 1402 میں قسطنطنیہ کے حکمران نے قیمتی تحائف پیش کیے، جن میں یہ مقدس تبرکات بھی شامل تھے۔ یوں یہ نایاب خزانہ ایک نئے سفر پر روانہ ہو گیا۔
وقت گزرتا گیا اور یہ تبرکات مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر، مغل سلطنت کے بانی تک پہنچے، جو انہیں 1526 میں ہندوستان لے آئے۔ مغل دور میں یہ تبرکات نہایت حفاظت کے ساتھ رکھے گئے، مگر جب سلطنت کمزور ہونے لگی تو ان کی حفاظت بھی خطرے میں پڑ گئی۔
احمد شاہ ابدالی، درانی سلطنت کے بانی کے حملوں کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے۔ شاہی خاندان کی خواتین، جن میں مغلانی بیگم اور ملکہ زمانی شامل تھیں، اپنا قیمتی خزانہ لے کر جموں ہجرت کر گئیں۔ مشکل حالات کے باعث انہیں یہ تبرکات ایک تاجر کے پاس رہن رکھنے پڑے، جو اس داستان کا ایک اہم موڑ تھا۔
کچھ عرصے بعد ایک حیران کن سودا ہوا۔ چِٹی کے شاہ محمد بازا اور پیر محمد چٹھہ نے 80 ہزار روپے کے عوض یہ تبرکات حاصل کر لیے۔ بعد ازاں انہوں نے یہ مقدس اشیاء آپس میں تقسیم کر کے مختلف علاقوں میں منتقل کر دیں، جس سے ان کا سفر مزید پیچیدہ ہو گیا۔
پھر وقت نے ایک اور کروٹ لی جب سردار مہا سنگھ، مہاراجہ رنجیت سنگھ کے والد نے رسول نگر پر قبضہ کیا اور ان تبرکات کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ یہ قیمتی امانت گوجرانوالہ منتقل کی گئی، جہاں یہ کئی برسوں تک محفوظ رہی۔
اسی دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے لوگوں کے دلوں میں ان تبرکات کی عقیدت کو اور بڑھا دیا۔ ایک دن قلعے میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور ہر چیز جل کر خاکستر ہو گئی، مگر جب آگ اس کمرے تک پہنچی جہاں یہ تبرکات رکھے تھے تو اچانک بجھ گئی۔ حیرت انگیز طور پر وہ کمرہ مکمل طور پر محفوظ رہا، جسے بہت سے لوگوں نے ایک معجزہ قرار دیا۔
بعد ازاں یہ تبرکات مختلف حکمرانوں کے پاس منتقل ہوتے رہے، جن میں مہاراجہ رنجیت سنگھ، مائی سدا کور اور مہاراجہ شیر سنگھ شامل تھے۔ آخرکار 1849 میں برطانوی حکومت نے پنجاب پر قبضہ کر لیا اور یہ تبرکات بھی ان کے اختیار میں آ گئے۔
برطانوی دور میں یہ تبرکات لاہور قلعہ میں محفوظ رہے، مگر ایک اہم فیصلہ 1856 میں کیا گیا جب بادشاہی مسجد کو دوبارہ مسلمانوں کے حوالے کر دیا گیا۔ بالآخر 1883 میں یہ مقدس تبرکات مسجد میں منتقل کر دیے گئے، جہاں وہ آج بھی موجود ہیں۔
آج ہزاروں زائرین بادشاہی مسجد، لاہور پاکستان کا رخ کرتے ہیں تاکہ ان مقدس تبرکات کی زیارت کر سکیں اور روحانی سکون حاصل کریں۔ یہ تبرکات صرف تاریخی اشیاء نہیں بلکہ ایک زندہ داستان ہیں جو ایمان، قربانی اور وقت کی آزمائشوں سے گزری ہے۔
لاہور واقعی صرف ایک شہر نہیں، بلکہ ایک ایسی داستان ہے جو ہر دور میں زندہ رہی ہے اور آج بھی اپنے اندر بے شمار راز سموئے ہوئے ہے۔
