پاکستان ویمن ٹیم نے زمبابوے ویمن ٹیم کو تیسرے ایک روزہ میچ میں 9 وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز صفر۔تین سے اپنے نام کر لی۔
زمبابوے ویمن ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 222 رنز بنائے۔ جواب میں پاکستان ویمن ٹیم نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطلوبہ ہدف صرف 31 اعشاریہ 5 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 225 رنز بنا کر حاصل کر لیا۔
اس فتح کے ساتھ پاکستان آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ 2025ء تا 2029ء کے پوائنٹس ٹیبل پر دوسری پوزیشن پر پہنچ گیا۔
میچ میں پاکستان ویمن ٹیم نے کئی اہم ریکارڈز بھی قائم کیے۔ قومی ٹیم نے ایک روزہ کرکٹ میں اپنا بہترین پاور پلے اسکور بغیر کسی نقصان کے 89 رنز بنایا۔ اوپنرز صدف شمس اور گل فیروزہ نے مسلسل تیسری مرتبہ 150 سے زائد رنز کی شراکت قائم کی، جبکہ دونوں کھلاڑیوں نے پوری سیریز میں مجموعی طور پر 571 رنز بنا کر دو طرفہ ایک روزہ سیریز میں کسی بھی جوڑی کے سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ قائم کیا۔
صدف شمس خواتین کی ایک روزہ کرکٹ میں مسلسل پانچ اننگز میں پچاس سے زائد رنز بنانے والی پاکستان کی پہلی بلے باز بن گئیں۔ دوسری جانب گل فیروزہ نے صرف 83 گیندوں پر سنچری اسکور کر کے پاکستان ویمن ٹیم کی تیز ترین ایک روزہ سنچری کا اپنا ہی ریکارڈ مزید بہتر بنا دیا۔ وہ خواتین کی ایک روزہ کرکٹ میں مسلسل دو سنچریاں بنانے والی پاکستان کی دوسری بلے باز بھی بن گئیں۔
صدف شمس اور گل فیروزہ نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 220 رنز بنائے، جو خواتین کی ایک روزہ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے کسی بھی وکٹ کے لیے دوسری بڑی شراکت ہے۔ پاکستان ویمن ٹیم نے 200 سے زائد رنز کا ہدف 7 اعشاریہ 06 کے رن ریٹ سے حاصل کر کے خواتین کی ایک روزہ کرکٹ میں اپنی تیز ترین کامیاب ہدف کے تعاقب کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔
