ادب محض لفظوں کا کھیل نہیں بلکہ احساسات، تجربات اور انسانی رشتوں کی ترجمانی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ جب اہلِ قلم ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو وہاں صرف گفتگو نہیں ہوتی بلکہ فکر و شعور کی ایک نئی دنیا جنم لیتی ہے۔ ایسی ہی ایک یادگار اور دلکش محفل “شامِ سخن” کے عنوان سے منعقد ہوئی، جو نہ صرف اپنے حسنِ ترتیب بلکہ ممتاز شخصیات کی بھرپور شرکت کے باعث دیر تک یاد رکھی جائے گی۔
یہ پروقار تقریب انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز، امریکہ چیپٹر کی صدر محترمہ فرظینہ مقصود بٹ کے اعزاز میں منعقد کی گئی۔ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ان کی شرکت نے محفل کو ایک خاص وقار عطا کیا، جبکہ ان کا پرتپاک استقبال اس امر کا مظہر تھا کہ اہلِ علم و ادب کو معاشرے میں ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس موقع پر ان کے صاحبزادے اور بہو کی شرکت نے تقریب کو خاندانی محبت اور اپنائیت کا رنگ بھی دیا۔
محفل کی خوبصورتی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب معروف کامیڈین غفار لہری نے اپنے شاندار ون مین شو کے ذریعے حاضرین کو قہقہوں سے محظوظ کیا۔ یوں سنجیدہ ادبی فضا میں شگفتگی کا رنگ بھی شامل ہو گیا، جو کسی بھی کامیاب محفل کی پہچان ہوتا ہے۔
تقریب میں شرکت کرنے والی شخصیات کی فہرست محفل کی اہمیت اور وقار کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ چیئرمین انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز زبیر احمد انصاری، صدر ثمینہ طاہر بٹ، نائب صدر محمد اصغر بھٹی، نائب صدر ایڈووکیٹ سعدیہ ہماء شیخ، ایگزیکٹو ممبر سپریم کونسل ریحانہ عثمانی، صدر پنجاب زوہیب رمضان بھٹی، نائب صدر پنجاب سجاد بھنڈر، صدر لاہور عاصم چوہدری، جنرل سیکرٹری لاہور حافظ زبیر احمد، صدر خواتین ونگ لاہور نبیلہ اکبر، صدر یوتھ ونگ فلک زاہد، نائب صدر لاہور شعبہ ادبِ اطفال شہباز اکبر الفت، رابعہ عظمت، نائلہ کرن، عارفین عائشہ، صائمہ ممتاز، مشتاق قمر، فاروق خان کاکڑ، شگفتہ ناہید گوہر، سحر نسیم سحر، شاہدہ زوہیب، عظمیٰ عاصم، زاہدہ پروین، حکیم جاوید انصاری، علی راج، ماہ نور عمران اور دیگر معزز شخصیات کی موجودگی نے اس ادبی محفل کو ایک بھرپور اور نمائندہ اجتماع بنا دیا۔
اس کامیاب تقریب کے پس منظر میں منتظمین کی محنت بھی نمایاں رہی۔ آرگنائزر لاہور حنا یاسمین اور جنرل سیکرٹری طاہر تبسم درانی نے میزبانی کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے اور تقریب کے ہر پہلو کو خوبصورتی سے سنبھالا۔
تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ پیش کیا گیا، جو محبت، خلوص اور باہمی تعلقات کی ایک خوبصورت جھلک تھا۔ آخر میں چیئرمین زبیر احمد انصاری نے تمام شرکاء کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا، جن کی شرکت نے اس شام کو یادگار بنا دیا۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو “شامِ سخن” محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک پیغام تھی—ایسا پیغام جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ادب آج بھی زندہ ہے، اور جب اہلِ قلم ایک ساتھ بیٹھتے ہیں تو نہ صرف خیالات کا تبادلہ ہوتا ہے بلکہ دل بھی ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ ایسی محافل نہ صرف ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہیں بلکہ معاشرے میں ہم آہنگی، محبت اور مثبت سوچ کو بھی تقویت بخشتی ہیں۔
