وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت کے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے ایک سال مکمل ہونے پر یہ بات ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے کہ اس واقعے سے متعلق بھارتی بیانیہ نہ صرف ناکام ہوا بلکہ دنیا کے سامنے پاکستان کا مؤقف درست ثابت ہوا کہ بھارت دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
وہ آج کے دن ایک سال قبل پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں وزیر اعظم کے تاریخی خطاب کے حوالے سے خصوصی گفتگو کر رہے تھے، جس میں پاکستان نے اس واقعے پر اپنا مؤقف عالمی سطح پر پیش کیا اور بھارت کی جانب سے اپنے شہریوں کے تحفظ میں ناکامی کو اجاگر کیا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا خطاب ایک تاریخی سنگ میل تھا جس نے پاکستان کی ساکھ، ثابت قدمی اور عالمی حیثیت کو مزید مضبوط کیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 24 اپریل کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان نے بھارتی الزامات کا بھرپور جواب دیا، جبکہ وزیر اعظم نے کاکول میں اپنے خطاب کے دوران پہلگام واقعے کو ایک سانحہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ایسے واقعات کو بے بنیاد الزامات کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبے نے بھارت کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا اور پاکستان کے مؤقف کو عالمی حمایت حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش اور دکھ کا اظہار کیا، جبکہ بھارت نے دہشت گردی کے واقعات کی کبھی مذمت نہیں کی، جس سے اس کے مؤقف پر سوالات اٹھتے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی اور 600 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان اٹھایا۔
انہوں نے بھارت سے منسلک دہشت گرد گروہوں، جن میں فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی شامل ہیں، کے خلاف پاکستان کے دوٹوک مؤقف کو اجاگر کیا۔
عطاء اللہ تارڑ نے زور دیا کہ پاکستان نے اپنی ادارہ جاتی اور عسکری صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی وقار اور خودمختاری کا بھرپور دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف بھی سخت مؤقف اپنایا اور پانی کے تحفظ کو پاکستان کی ریڈ لائن قرار دیا۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کے تاریخی خطاب نے سفارتی محاذ پر پاکستان کے بیانیے کو تقویت دی جبکہ بھارت کے بے بنیاد دعوے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل نہ کر سکے۔
