ایک جے ایف-17 بلاک II لڑاکا طیارے کو سعودی عرب کے ایک فضائی اڈے سے اڑان بھرتے دیکھا گیا، جسے مبصرین پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون معاہدے کے بعد عملی تیاری کا اہم اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
جے ایف-17 طیارہ، جو پاکستان اور چین کا مشترکہ منصوبہ ہے، اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں اور کم لاگت کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی سعودی ایئربیس پر موجودگی دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری تعاون کو ظاہر کرتی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی سرگرمیاں مشترکہ تربیت، باہمی ہم آہنگی اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کا حصہ ہوتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے کی سیکیورٹی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہو۔
اگرچہ حکام کی جانب سے اس حوالے سے تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم اس پیش رفت کو دفاعی تعلقات میں مضبوطی اور تیاری کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
