پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں منعقدہ پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ پاک فضائیہ نے اپنی روایتی پیشہ ورانہ مہارت اور ثابت قدمی کے ساتھ عددی برتری رکھنے والے دشمنوں کے مقابلے کی شاندار تاریخ کو برقرار رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے جدید مربوط جنگی نظام کے تحت ایک حالیہ شدید نوعیت کی کارروائی میں اپنی اعلیٰ عملی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق اس دوران پاک فضائیہ نے نہ صرف جدید اور انتہائی ترقی یافتہ دشمن طیاروں کو طویل فاصلے (BVR) کی فضائی جھڑپ میں مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا اور غیر مؤثر کیا، بلکہ دشمن کے علاقے میں گہرائی تک جا کر اہم زمینی اہداف پر بھی درست نشانہ لگایا، جو شمال سے جنوب تک پھیلے ہوئے تھے۔
ائیر چیف نے مزید کہا کہ پاک فضائیہ نے جدید ترین دفاعی نظاموں اور مختلف مقامات پر موجود کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو بھی کامیابی سے غیر فعال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دشمن کو پاک فضائیہ کے مقامی طور پر تیار کردہ “کل کِل چین” سسٹم نے حیران کر دیا، جس میں بغیر پائلٹ فضائی نظام (UAS)، الیکٹرانک وارفیئر، خلائی معاونت اور سائبر صلاحیتیں شامل ہیں، اور یہ سب ایک جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک کے تحت مربوط طریقے سے کام کرتے ہیں۔
انہوں نے اس کارروائی کو پاکستان فضائیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کیا جانے والا ایک مربوط ملٹی ڈومین آپریشن قرار دیا، جو جدید جنگی تیاری کے ایک نئے دور کی عکاسی کرتا ہے۔
ائیر چیف مارشل نے کہا کہ اگرچہ پاک فضائیہ میں مزید کارروائی کی صلاحیت موجود تھی، تاہم پاکستان کی بالغ اور ذمہ دارانہ اسٹریٹجک سوچ کے مطابق تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ جدید دفاعی نظام اچانک تیار نہیں ہوا بلکہ یہ پاک فضائیہ کی برسوں پر محیط تنظیم نو، جدیدیت اور مقامی سطح پر ٹیکنالوجی کے فروغ کا نتیجہ ہے، جس نے ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط بنایا ہے۔
آخر میں انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ پاکستان کی مقامی اور جنگی تجربے سے ثابت شدہ صلاحیتیں ملک کی خودمختاری کو ہر قسم کی جارحیت کے خلاف مکمل تحفظ فراہم کرتی رہیں گی، ان شاء اللہ۔
