بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

820 نئی ہائی کیپیسٹی فریٹ ویگنز اور 230 مسافر کوچز سسٹم میں شامل کی جا رہی ہیں، پارلیمانی سیکرٹری محمد عثمان

قومی اسمبلی کو آج بتایا گیا کہ پاکستان ریلوے اپنے انفراسٹرکچر کی بہتری پر کام کر رہا ہے تاکہ ٹرانسپورٹ کی گنجائش میں پانچ گنا اضافہ کیا جا سکے۔

ایوان میں وقفۂ سوالات کے دوران ریلوے کے پارلیمانی سیکریٹری محمد عثمان اویسی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ 820 نئی ہائی کیپیسٹی فریٹ ویگنز اور 230 مسافر کوچز سسٹم میں شامل کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد-تہران-استنبول ٹرین سروس کو رواں سال کے اختتام تک بحال کرنے کا منصوبہ ہے۔

پارلیمانی سیکریٹری نے ایوان کو آگاہ کیا کہ فریٹ سیکٹر میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، جس کے لیے ٹریک تک رسائی اور ٹرمینل ڈویلپمنٹ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ریلوے نے کراچی-لاہور اور کراچی-ملتان-فیصل آباد کے درمیان چلنے والی دو کارگو ٹرین آپریشنز کی کامیاب نیلامی بھی کی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں محمد عثمان اویسی نے کہا کہ مسافروں کی سہولت کے لیے 57 بڑے کمرشل ریلوے اسٹیشنز پر ٹکٹ وینڈنگ مشینیں نصب کر دی گئی ہیں، جبکہ رواں مالی سال کے اختتام تک بینک کارڈ کے ذریعے ادائیگی کی سہولت بھی فراہم کر دی جائے گی۔

دریں اثنا، صحت کے پارلیمانی سیکریٹری نیلسن عظیم نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ حکومت نے ایچ آئی وی/ایڈز کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے جامع اور کثیرالجہتی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں 84 ہزار 421 رجسٹرڈ ایچ آئی وی مریض موجود ہیں، جنہیں ملک بھر میں قائم 98 مراکز کے ذریعے مفت اینٹی ریٹرو وائرل علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

آج ایوان میں پانچ بل بھی پیش کیے گئے، جن میں “الیکٹرسٹی (ترمیمی) بل 2026”، “فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2026”، “مالیاتی ذمہ داری اور قرضہ حد بندی (ترمیمی) بل 2025”، “بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے ضابطہ (ترمیمی) بل 2026” اور “مالیاتی ادارہ جات (رقوم کی وصولی) (ترمیمی) بل 2025” شامل ہیں۔

چیئر نے ان بلز کو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button