نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ میں واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو اسے یکطرفہ طور پر معطل، تبدیل یا غیر مؤثر بنانے کی اجازت دیتی ہو۔
بھارتی نمائندے کے بیان کے جواب میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مشن کی رکن، سیکنڈ سیکرٹری علینہ مجید نے کہا کہ عدالتِ ثالثی نے اپنے 2025 کے ضمنی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اس کا اختیار برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے، اس کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار پابند ہیں، اور کوئی بھی فریق اسے یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر نہیں بنا سکتا۔
علینہ مجید نے مطالبہ کیا کہ بھارت فوری طور پر سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد بحال کرے۔
انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی نمائندے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے بے بنیاد الزامات کے ذریعے توجہ ہٹانے کی کوششیں اس کے اپنے اقدامات کو نہیں چھپا سکتیں، جن میں سرحد پار دہشت گردی کی سرپرستی، مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی، شمالی امریکا سمیت عالمی سطح پر ٹارگٹ کلنگ مہم اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کی سرپرستی شامل ہیں۔
علینہ مجید نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کالعدم تنظیموں، بشمول ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج، بی ایل اے اور فتنہ الہندوستان کی معاونت کے شواہد موجود ہیں، جنہوں نے پاکستان میں حملے کیے اور ہزاروں جانوں کے ضیاع کا باعث بنے۔
