پاکستان توانائی کے شعبے میں انقلابی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے، مقامی وسائل پر خود انحصاری کی جانب سفر جاری ہے۔حکومت اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے توانائی کے شعبے میں خود کفالت اور مقامی توانائی کے وسائل کے فروغ کیلئے نہایت مؤثر اقدامات کئے ہیں۔حالیہ برسوں میں درآمدی ایندھن پر انحصار کم جبکہ مقامی ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2020-21ء میں 34 فیصد درآمدی ایندھن پر پیدا ہونیوالی بجلی مالی سال 2024-25ء میں کم ہو کر تقریباً 15 فیصد رہ گئی ہے۔
کےـٹو ری ایکٹر کے فعال ہونے سے پاکستان کی جوہری بجلی کی پیداوار 10.9 ٹیرا واٹ آور سے بڑھ کر 23 ٹیرا واٹ آور تک پہنچ گئی ہے۔شمسی توانائی کے فروغ سے پاکستان میں سالانہ 14 سے 20 گیگاواٹ تک قابل تجدید توانائی پیدا کی جا رہی ہے۔ 18 لاکھ سے زائد کسان شمسی توانائی سے بجلی پیدا کر رہے ہیں، جبکہ سولر ٹیوب ویل نے گرڈ سے بجلی کی کھپت میں 45 فیصد کی واضح کمی کی ہے۔ دریں اثنائ، ایل این جی پر مبنی بجلی کی پیداوار میں تقریباً 49 فیصد کمی جبکہ فرنس آئل کے استعمال کی پیداوار میں تقریباً 50 فیصد کمی ہوئی ہے۔
ماہرِ معاشیات وتوانائی محمد عارف کے مطابق پاکستان میں توانائی کا انقلاب آ چکا ہے کیونکہ ملکی بجلی کی پیداواری صلاحیت ضروریات سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سولر، تھر کول اور نیوکلیئر توانائی جیسے مقامی اور پائیدار ذرائع کو مؤثر اور کم لاگت انداز میں استعمال کر کے مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ایس آئی ایف سی کی معاونت سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور مقامی توانائی کے وسائل کے فروغ سے معاشی استحکام حاصل ہو رہا ہے۔
