83 فیصد ملازمین دفتری اوقات کے بعد بھی آن لائن، ڈیجیٹل بے چینی میں اضافہ: کیسپرسکی سروے

اسلام آباد: کیسپرسکی کے ایک حالیہ سروے کے مطابق ڈیجیٹل بے چینی جدید ورک کلچر کا نمایاں حصہ بنتی جا رہی ہے، کیونکہ ملازمین اپنے فارغ وقت اور چھٹیوں میں بھی کام سے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوتے۔

سروے کے نتائج کے مطابق 83 فیصد افراد دفتری اوقات کے بعد بھی کام سے متعلق امور پر نظر رکھتے ہیں۔ تقریباً 85 فیصد ملازمین فوری پیغام رسانی ایپس پر آنے والے تمام دفتری پیغامات کا جواب دیتے ہیں، جبکہ85 فیصد فارغ وقت میں بھی ای میل چیک کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ 81 فیصد افراد اعتراف کرتے ہیں کہ وہ چھٹیوں یا ذاتی وقت میں بھی کام کی ای میلز کا جواب دیتے ہیں۔

مسلسل دستیاب رہنے کا دباؤ کام کی جگہ پر ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ دیگر وجوہات میں دفتری غلطیاں بھی شامل ہیں، مثلاً 43 فیصد افراد کسی ورک چیٹ میں غلطی سے بے ترتیب پیغام بھیجنے پر پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاہم، تمام ڈیجیٹل غلطیوں کو یکساں نہیں سمجھا جاتا؛ 40 فیصد افراد ادھوری ای میل بھیجنے کو نسبتاً کم سنجیدہ مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ایک تہائی سے زائد یعنی 36 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ اگر ان کا باس انہیں کام کے دوران سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے دیکھ لے تو وہ شدید بے چینی یا خوف محسوس کرتے ہیں۔

سائبر سیکیورٹی اسٹریٹجسٹ اور ٹرینر محمد اسد الرحمن کے مطابق،“کایپرسکی کے تازہ نتائج ایک ایسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں جس کا ہم پاکستان میں بھی بڑھتا ہوا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ہمارے جیسے ممالک میں، جہاں ڈیجیٹلائزیشن اپنانے کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے، یہ رجحانات ایک واضح وارننگ کے طور پر سامنے آنے چاہئیں۔ سائبر سیکیورٹی کو اب کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا—اس کے لیے ادارہ جاتی اور انفرادی دونوں سطحوں پر مسلسل سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ ڈیجیٹل بے چینی صرف کام کی جگہ کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑھتا ہوا قومی چیلنج بھی ہے، کیونکہ مسلسل آن لائن رہنا کمزور فیصلوں اور سائبر خطرات کے بڑھتے ہوئے امکانات کا سبب بن سکتا ہے۔”

کیسپرسکی کے ٹیکنیکل ماہر برینڈن ملرکے مطابق ڈیجیٹل بے چینی نہ صرف ملازمین کی فلاح و بہبود کو متاثر کرتی ہے بلکہ اداروں کے لیے سائبر سیکیورٹی خطرات بھی بڑھا دیتی ہے۔ جب ملازمین فوری ردعمل دینے کے دباؤ میں ہوتے ہیں تو وہ بغیر تصدیق کے لنکس یا بھیجنے والے کی شناخت چیک کیے بغیر کارروائی کر سکتے ہیں، جس سے فِشنگ اور دیگر دھوکہ دہی کے حملوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کیسپرسکی نے ملازمین کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی لنک پر کلک کرنے یا جواب دینے سے پہلے توقف کریں اور فوری نوعیت کے پیغامات کو مشکوک سمجھیں۔ غیر متوقع یا ہنگامی درخواستوں کی تصدیق ضرور کریں اور جدید سیکیورٹی ٹیکنالوجیز کا استعمال کریں، جیسے کیسپرسکی پریمئیم جس میں اے آئی پر مبنی اینٹی فِشنگ خصوصیات شامل ہیں۔ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ باقاعدہ سائبر سیکیورٹی تربیت فراہم کریں اور مضبوط سیکیورٹی نظام اپنائیں تاکہ انسانی غلطیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں کیسپرسکی نیکسٹ اور کیسپرسکی سکیورٹی فار میل سرور جیسے حل فِشنگ حملوں کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

Exit mobile version