وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزاد نے کہاہے کہ پاکستان کے بیرونی کھاتوں میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے اور فروری 2026 کے دوران حسابات جاریہ کےکھاتوں کا توازن 427 ملین ڈالر فاضل ریکارڈ کیا گیا ہے جو رواں سال کا سب سے بڑا ماہانہ سرپلس ہے، مارچ 2025 کے بعد فاضل کھاتوں کی یہ بلند سطح ہے۔
پیرکو سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے جب پاکستان کے کرنٹ اکاﺅنٹ میں فاضل توازن سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل جنوری 2026 میں 60 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کے بیرونی شعبے میں بتدریج استحکام آ رہا ہے۔
مشیرخزانہ نے کہا کہ مسلسل سرپلس کی بنیادی وجوہات میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے مضبوط ترسیلات زر، ویلیو ایڈڈ برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں نظم و ضبط شامل ہیں۔ درآمدات میں اضافہ بنیادی طور پر معاشی سرگرمیوں اور ترقی سے جڑا ہےجو صحت مند معاشی پیش رفت ہے۔ انہو ں نے کہا کہ کرنٹ اکاﺅنٹ میں مسلسل بہتری سے پاکستان کی مجموعی معاشی استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے اور بیرونی مالیاتی دباﺅ میں بھی کمی آ رہی ہے۔ اس پیش رفت کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن پر دباﺅ کم ہونے کی توقع ہے۔
اگرچہ خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال جیسے چیلنجز موجود ہیں تاہم پاکستان کے مستحکم ہوتے بیرونی کھاتے اور مناسب مالیاتی بفرز ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاﺅنٹ میں بہتری نہ صرف پائیدار معاشی بحالی کے لیے مثبت اشارہ ہے بلکہ اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ بھی متوقع ہے جو مستقبل میں سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
