وزیر برائے امورِ پارلیمان ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتِ حال کے پیشِ نظر ملک کی آئندہ پالیسیوں کی تشکیل میں حکومت تمام سیاسی جماعتوں، خصوصاً حزبِ اختلاف، کی آرا کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
وہ قومی اسمبلی میں ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دے رہے تھے۔
وزیر نے بتایا کہ وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف نے افغانستان، ایران، خلیجی ممالک اور مجموعی علاقائی حالات کے حوالے سے ایک اہم بریفنگ کے لیے حزبِ اختلاف کو دعوت دی تھی، تاہم انہیں افسوس ہے کہ آج وزیرِ اعظم ہاؤس میں منعقدہ اس اجلاس میں حزبِ اختلاف شریک نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور خارجہ سیکرٹری آمنہ بلوچ نے اراکینِ پارلیمان اور ملکی سیاسی قیادت کو تفصیلی بریفنگ دی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما خالد مقبول صدیقی اور دیگر اتحادی جماعتوں کے قائدین نے اپنی قیمتی آرا پیش کیں۔
حزبِ اختلاف کی جانب سے بریفنگ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ یہ اجلاس کسی جماعت کے مفاد یا کسی فرد کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہیں تھا بلکہ یہ پاکستان کی سلامتی اور موجودہ حالات میں قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے متوازن حکمتِ عملی ترتیب دینے کا معاملہ تھا۔
انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ سیاسی قائدین کی تجاویز کو آئندہ پالیسیوں کی تشکیل میں شامل کیا جائے گا۔
وزیرِ امورِ پارلیمان نے کہا کہ پاکستان نے ایران پر حملے اور ایرانی سپہ سالار علی خامنہ ای کی شہادت کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی کی بات کرتا ہے اور تمام ممالک پر زور دیتا ہے کہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے تناؤ کم کریں۔
آپریشن غضبُ الحق کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک افغان طالبان حکومت پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے والے عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات یقینی نہیں بناتی۔
قبل ازیں ایوان میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال، خصوصاً ایران پر حملوں کے حوالے سے بحث کا دوبارہ آغاز ہوا۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ اگر یہ جنگ جاری رہی تو عالمی معیشت کو شدید معاشی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دیگر دوست اور برادر ممالک کے ساتھ مل کر جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
اسامہ حمزہ نے ایران کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بمباری میں معصوم بچوں کی ہلاکت کی مذمت کی اور کہا کہ برسرِ پیکار قوتیں قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے تحمل کا مظاہرہ کریں۔
علی محمد خان نے ایران پر حملے کو امتِ مسلمہ پر حملہ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ پاکستان دشمنیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
اجلاس کے دوران شیخ آفتاب احمد، شاہدہ رحمانی، ڈاکٹر فاروق ستار، اقبال آفریدی، ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو، شبیر علی قریشی اور نعیمہ کشور نے بھی اظہارِ خیال کیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اب کل دوپہر ڈھائی بجے دوبارہ منعقد ہوگا۔
