بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

امریکہ، ایران کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے،اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے کوششیں جاری رکھے گا۔آج (منگل) سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے گزشتہ تین دنوں کے دوران مختلف ممالک کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ رابطوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کا مقصد فریقین کو اپنے مسائل کے حل کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری کی میز پر آنے پر آمادہ کرنا ہے۔نائب وزیراعظم نے ایران پر اچانک حملے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ گزشتہ سال جون کی طرز پر دوبارہ کیا گیا ۔

ایران کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فوری طور پر پڑوسی ملک پر حملے کی مذمت کی۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ تنازع کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے ایران کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔

اسحاق ڈار نے ایوان کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے پارلیمانی رہنماؤں اور اپوزیشن رہنماؤں کو کل دن ساڑھے گیارہ بجے ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی۔ افغانستان کا مسئلہ بھی زیر بحث آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشکل وقت ہے کیونکہ خطے میں تصادم کی صورتحال کا سامنا ہے۔

نائب وزیراعظم نے ایوان کو ایران سے پاکستانیوں کی وطن واپسی کیلئے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایران سے طلباء سمیت سات سو بانوے پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جا چکا ہے۔سینیٹ کو مزید بتایا گیا کہ پاکستان ریلویز کی کمرشل صلاحیت کو بڑھانے کے لئے اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں۔

وزیر ریلوے حنیف عباسی نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا کہ کراچی تا روہڑی سیکشن پر 480 کلومیٹر کے نئے ٹریک کا سنگ بنیاد اس سال جولائی میں رکھا جائے گا۔

حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان ریلوے کو مالی طور پر پائیدار ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے مال بردار آپریشن کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان ریلوے نے مزید دس مسافر ٹرینیں بھی متعارف کرائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں مسافرٹرینوں کے ذریعے 49 ارب روپے کی آمدن ہوئی۔

وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی شذرا منصب علی خان نے ایوان کو بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے پیشہ ور بھکاریوں اوران کے ہینڈلرز کے سدباب کیلئے بھیک کے خاتمے کی مہم شروع کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹریفک سگنلز، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر بھکاریوں کی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 4270 بھکاریوں کو گرفتار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button