پاکستان نے ایمرجنگ ٹیکنالوجیز میں قومی صلاحیت کو فروغ دینے اور نئی نسل کے سائنسی موجدین کی تربیت کے مقصد کیلیے اپنی پہلی قومی سطح کی کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکاتھون کا افتتاح کرکے ایک اہم تکنیکی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
تین روز پہلی کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکاتھون پاکستان کا انعقاد نیشنل سینٹر فار فزکس، اسلام آباد میں کیا جا رہا ہے
چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے بطور مہمانِ خصوصی ہیکاتھون کا باقاعدہ افتتاح کیا اور اسے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں مستقبل کے قائدین کی صف میں پاکستان کی شمولیت کی جانب ایک تزویراتی قدم قرار دیا۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نےکہا کہ کوانٹم سائنس اب صرف نظریاتی تحقیق تک محدود نہیں رہی بلکہ تیزی سے عملی ٹیکنالوجیز میں تبدیل ہو رہی ہے، جن کے استعمال سے قومی سلامتی، صحت، توانائی، مٹیریلز سائنس، مالیات اور ڈیٹا کے تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں بہتری آرہی ہیں۔
انہوں نے کہا، “انسانی وسائل میں ابتدائی سرمایہ کاری آئندہ دہائیوں میں تکنیکی قیادت کا تعین کرے گی۔ اس طرح کی ہیکاتھون جیسی سرگرمیاں مضبوط قومی کوانٹم کی پیش رفت کے لیے ناگزیر ہیں۔”
انہوں نے منتظم اداروں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف لیزرز اینڈ آپٹرونکس، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز، اور نیشنل سینٹر فار فزکس کو نوجوانوں کی صلاحیتوں، محققین اور رہنماؤں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے پر مبارکباد دی۔
سائنسی اقدامات میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے دیرینہ کردار کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ کمیشن نے ایٹمی ٹیکنالوجی، مٹیریلز ریسرچ اور طبی استعمال سمیت جدید علوم میں قومی صلاحیت کی ترقی میں ہمیشہ مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہیکاتھون جدت اور تحقیق سے نمو پزیر پائیدار ترقی پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن
کے عزم کی عکاس ہے۔
چیئرمین پی اے ای سی نے زور دیا کہ اس تقریب میں شریک طلبہ اور نوجوان محققین پاکستان کی مستقبل کی سائنسی قیادت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے فزکس، ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کے ماہرین کے درمیان شعبہ جاتی تعاون کی حوصلہ افزائی کی تاکہ قومی ترجیحات سے ہم آہنگ عملی اقدامات کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا،
“یہ ہیکاتھون کوئی الگ سے سرگرمی نہیں بلکہ جدت کے ایک طویل سفر کا آغاز ہے۔ حقیقی ترقی جرات مندانہ سوالات اٹھانے، نئی راہیں تلاش کرنے اور معاشرے کے فائدے کے لیے اجتماعی طور پر حل تلاش کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔”
ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ ہیکاتھون کے لیے تیار کیے گئے چیلنجز حقیقی سماجی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہیں تاکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز محض نظری کامیابیوں تک محدود نہ رہیں بلکہ جامع قومی ترقی میں کردار ادا کریں۔ انہوں نے سرپرستوں، ججز اور تکنیکی ماہرین کے اہم کردار کو بھی سراہا جن کی رہنمائی جدید منصوبوں اور مستقبل کے سائنسی رہنماؤں کی تشکیل میں مدد دے گی۔
کوانٹم ٹیکنالوجیز کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے کہا کہ حکومت اس شعبے کو قومی ترقی اور سلامتی کے لیے نہایت اہم سمجھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہیکاتھون سے سامنے آنے والے خیالات مستقبل کی تحقیق، تعلیمی اشتراک اور قومی اہمیت کے حامل تکنیکی حل کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
فائنلسٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے شرکاء کو دیانت داری، کھلے تعاون اور بہترین کارکردگی کے لیے کوشاں رہنے کی تلقین کی۔
اس سے قبل، ممبر سائنس پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ہیکاتھون کے عملی اور تخلیقی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے کہا “کوانٹم کمپیوٹنگ اب محض ایک نظریاتی امکان نہیں رہی، یہ مستقبل قریب کا سوال ہے۔ آج آپ جو اقدامات کریں گے وہ اگلی صدی کی ٹیکنالوجی کا خاکہ بن سکتے ہیں۔”
انہوں نے شرکاء کو حقیقی دنیا کے مسائل کو کوانٹم ٹیکنالوجی کے ذریعے جدت کے مواقع کے طور پر دیکھنے کی ترغیب دی اور کہا کہ ہر کوشش انہیں کامیابی کے مزید قریب لے جاتی ہے۔
انہوں نے مزیدکہا، “صفر سے کوانٹم ہیرو تک کوشش کرنے سے نہ گھبرائیں، چاہے راستہ مشکل ہی کیوں نہ ہو۔ مسائل عارضی ہیں، سیکھنا مستقل ہے۔ ‘کوانٹم نظریہ کی روح کو زندہ رکھیں۔”
ڈاکٹر روفی نے این سی پی، اور کیو آئی، این وائے یو اور دیگر شریک اداروں کی کاوشوں کو بھی سراہا جنہوں نے تخلیقی پروگرامنگ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور بھرپور سیکھنے کے امتزاج پر مبنی ہیکاتھونز ترتیب دیے۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اس پلیٹ فارم سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئےنئے تجربات کریں، جدت پیدا کریں اور خیالات کو مؤثر حل میں تبدیل کریں۔
اس موقع پر اوپن کوانٹم انسٹی ٹیوٹ، سرن کے مارٹن گسٹال نے کوانٹم تحقیق میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو سراہا۔ انہوں نے سرن کے غیر منافع بخش مشن، تنوع اور تعلیمی مواقع بشمول طلبہ اور اساتذہ کے لیے انٹرن شپس پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا،
“کوانٹم کمپیوٹنگ روایتی کمپیوٹنگ کی تکمیل کرتی ہے اور حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے پائیدار ترقی کے اہداف کی حمایت ہوتی ہے۔”
انہوں نے پاکستانی طلبہ اور محققین کو سرن کے ساتھ منسلک ہونے اور سائنسی جدت میں حصہ ڈالنے کی ترغیب بھی دی۔
