زرعی عوامل کی فراہمی کے سرکردہ ادارے سونا سنٹر کے زیرِ اہتمام لاہور میں ایک کسان کنونشن منعقد کیا گیا، جس کا مقصد کسانوں کو جدید زرعی طریقوں سے آگاہ کرنا اور پائیدار کاشتکاری کے فروغ کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرنا تھا۔
سونا سنٹر ایک متوازن اور پائیدار زرعی ماڈل کے تحت کام کر رہا ہے، جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو جدید کاشتکاری کے طریقے اپنانے اور فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے بااختیار بناتا ہے۔ ان مراکز کے ذریعے کسانوں کو زرعی عوامل کی دہلیز پر فراہمی، فصلوں کی انشورنس کی سہولت اور کم شرح سود پر بینکوں سے قرضوں کے حصول میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
ادارے کے مطابق قلیل مدت میں نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے ایک سال کے اندر پاکستان بھر میں تقریباً 244 سونا سنٹر اسٹورز فعال ہو چکے ہیں، جو کسانوں کو ایک مربوط نظام کے تحت سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات عالمی رجحانات کے عین مطابق ہیں، جن کا مقصد حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے پاکستان میں کاشتکاری کے طریقوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔
کسان کنونشن میں سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی ساہو نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے کسانوں کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کرنے، معیاری زرعی عوامل کی فراہمی اور بروقت معاونت کے مربوط نظام کو یقینی بنانے پر سونا سنٹرز کی کاوشوں کو سراہا اور انہیں پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔
اس موقع پر فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے چیف کمرشل آفیسر محمد علی جنجوعہ نے کہا کہ اس وقت 300 ماہرینِ زراعت پر مشتمل ٹیم جدید زرعی رہنمائی فراہم کر رہی ہے، جو مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل ایڈوائزری خدمات کے ذریعے کسانوں کی عملی مدد کر رہی ہے۔
