پاکستان اور کینیڈا نے تجارت، کان کنی اور زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایس آئی ایف سی کی فعال سفارتی اور معاشی حکمتِ عملی کے نتیجے میں سامنے آئی ہے، جس کے تحت پاکستان عالمی اسٹریٹجک شراکت داریوں کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔یہ اتفاق رائے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان کے درمیان ہونے والی ایک اہم ملاقات کے دوران طے پایا۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، معدنیات، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران پاکستان کی جانب سے دنیا کی سب سے بڑی معدنیاتی کانفرنس پراسپییکٹرز اینڈ ڈیولپرز ایسوسی ایشن آف کینیڈا 2026 میں شرکت پر بھی بات چیت ہوئی۔ اس کانفرنس کے ذریعے پاکستان اپنی معدنیات کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے متعارف کرائے گا جبکہ پاکستانی کان کنی کمپنیوں کو کینیڈین ماہرین سے رابطے کے مواقع میسر آئیں گے۔
دونوں ممالک نے ڈیری اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں جدید فارمنگ، جینیٹکس اور وباں کے کنٹرول کے ذریعے پیداوار اور معیار بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں کینیڈین سرمایہ کاری، بروقت منظوریوں اور واضح ریگولیٹری فریم ورک کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
فریقین نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے، ادارہ جاتی روابط بڑھانے اور نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ حکام کے مطابق پاکستان کی اقتصادی ترقی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات اور سرمایہ کاری کے مواقع قومی معیشت کیلئے روشن مستقبل کی نوید ہیں، جبکہ ایس آئی ایف سی غیر ملکی سرمایہ کاری اور اقتصادی استحکام میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
