بسم اللہ الرحمن الرحیم

مضامین

یومِ یکجہتیٔ کشمیر: تاریخ، عزم اور حقِ خودارادیت کی علامت

ہر سال 5 فروری کو منایا جانے والا یومِ یکجہتیٔ کشمیر محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ یہ کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کے غیر متزلزل عزم، اخلاقی وابستگی اور تاریخی رشتے کی جیتی جاگتی علامت ہے۔ یہ دن ہمیں برصغیر کی تاریخ کے ایک ایسے ادھورے باب کی یاد دلاتا ہے جو سات دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی عالمی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔

ریاست جموں و کشمیر کا مسئلہ برصغیر کی تقسیم کے ساتھ ہی جنم لے چکا تھا۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا، مگر افسوس کہ یہ وعدہ آج تک وفا نہ ہو سکا۔ بھارت نے کشمیری عوام کی خواہشات کے برعکس اس خطے پر قبضہ جما لیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ظلم، جبر اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔

یومِ یکجہتیٔ کشمیر کی بنیاد 1990ء میں رکھی گئی، جب پاکستان نے باضابطہ طور پر یہ دن کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منانے کا اعلان کیا۔ تب سے لے کر آج تک یہ دن پاکستان کے ہر شہری کے دل کی آواز بن چکا ہے۔ اس دن پورا ملک ایک قوم بن کر کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حق میں آواز بلند کرتا ہے، انسانی زنجیریں بنائی جاتی ہیں، ریلیاں نکالی جاتی ہیں اور دنیا کو باور کرایا جاتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا۔

5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت نہ صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس اقدام کے بعد کشمیری عوام پر ظلم و ستم میں بے پناہ اضافہ ہوا۔

یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ آزادی کی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ کشمیری عوام کی قربانیاں، شہداء کا لہو اور ماؤں کی آہیں تاریخ کا رخ موڑنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ پاکستان کا ہر شہری اس دن یہ عہد دہراتا ہے کہ کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انہیں ان کا جائز اور بنیادی حق، یعنی حقِ خودارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یومِ یکجہتیٔ کشمیر صرف کشمیری عوام کا دن نہیں بلکہ یہ انسانیت، انصاف اور عالمی ضمیر کے امتحان کا دن ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button