پاکستان اور قازقستان کا اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

پاکستان اور قازقستان نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس عزم کا اظہار آج اسلام آباد میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف کے درمیان ملاقات کے دوران کیا گیا۔

دونوں صدور نے پہلے ون آن ون ملاقات کی، جس میں دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جس کے بعد وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور قازقستان سیاسی، معاشی اور علاقائی شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے امن، رابطہ سازی اور پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے قازقستان کے ساتھ قریبی اشتراک پر پاکستان کی آمادگی کا اعادہ کیا۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور علاقائی خوشحالی کے مشترکہ وژن پر مبنی ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ صدر قاسم جومارت توکایف کا یہ دورہ، جو دو دہائیوں بعد کسی قازق صدر کا پہلا دورہ ہے، دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے اور سیاسی خیرسگالی کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کا بروقت موقع فراہم کرتا ہے۔

معاشی تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ اگرچہ حالیہ برسوں میں دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوا ہے، تاہم یہ اب بھی اپنی اصل صلاحیت سے کم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2025-2027 کے لیے تجارتی و اقتصادی تعاون کا روڈ میپ، ٹرانزٹ ٹریڈ، کسٹمز تعاون اور بینکاری سے متعلق معاہدوں کے ساتھ مل کر تجارتی رکاوٹیں دور کرنے اور سرمایہ کاری و کاروباری تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

صدرِ مملکت نے توانائی، زراعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداوار جیسے شعبوں میں پاکستان کی سہولیات سے استفادہ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے پاکستان اور قازقستان کے تعلقات میں علاقائی رابطہ سازی کو مرکزی حیثیت قرار دیتے ہوئے ریلوے اور سڑکوں کے منصوبوں میں پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جن میں CASA ریلوے منصوبہ اور کواڈر ی لیٹرل ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کے مؤثر استعمال شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر فضائی روابط اور پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ کرے گی بلکہ علاقائی انضمام اور معاشی استحکام کو بھی فروغ دے گی۔

دونوں رہنماؤں نے متعدد دوطرفہ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ پیش رفت باہمی تعلقات کو نئی رفتار دے گی اور اقتصادی تعاون کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

علاقائی اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے امن، مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور علاقائی چیلنجز کو تصادم کے بجائے تعاون کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

اس موقع پر قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے اور اسے علاقائی تعاون کا ایک اہم ستون سمجھتا ہے۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے پاکستان کے ساتھ رابطہ سازی کے فروغ، معاشی تعاون میں توسیع اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ قازق صدر نے بتایا کہ ان کے وفد میں معروف قازق کاروباری شخصیات، جن میں تین ارب پتی بھی شامل ہیں، شریک ہیں اور ایک ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت کا ہدف قابلِ حصول ہے۔

انہوں نے قازقستان میں پاکستانی طلبہ اور سیاحوں کی تعداد میں اضافے کا بھی خیرمقدم کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ دورہ پاکستان اور قازقستان کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔ بعد ازاں وفود کی سطح پر مزید ملاقات بھی ہوئی۔

ادھر قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف اپنا دو روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہو گئے۔ وزیرِ مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے ایئرپورٹ پر معزز مہمان کو رخصت کیا۔

Exit mobile version