
حکومت کی مؤثر حکمتِ عملی کے مثبت نتائج، پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار بڑے پیمانے پر قرضہ مقررہ مدت سے قبل واپس کر دیا
حکومتِ پاکستان کی دانشمندانہ معاشی پالیسیوں اور مؤثر قرض نظم و نسق کے باعث ملکی معیشت میں نمایاں بہتری کے آثار سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار بڑے پیمانے پر اندرونی قرضہ مقررہ مدت سے قبل واپس کرنے کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
مالی سال 2026 کے دوران قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی میں مالی سال 2025 کے مقابلے میں 44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو حکومت کی سنجیدہ معاشی حکمتِ عملی کا واضح ثبوت ہے۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق وزارتِ خزانہ نے صرف 14 ماہ کے مختصر عرصے میں 3 ہزار 654 ارب روپے کا اندرونی قرضہ قبل از وقت ادا کیا۔ تازہ ترین ادائیگی کے تحت حکومت نے جنوری 2026 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو 300 ارب روپے واپس کیے۔
انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے ابتدائی سات ماہ (جولائی 2025 تا جنوری 2026) کے دوران 2 ہزار 150 ارب روپے سے زائد قرضہ قبل از وقت ادا کیا گیا، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔
خرم شہزاد کے مطابق قبل از وقت ادائیگیوں میں 65 فیصد اسٹیٹ بینک آف پاکستان، 30 فیصد ٹریژری بلز (ٹی بلز) اور 5 فیصد پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) شامل ہیں۔ ان ادائیگیوں کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کا قرضہ 5 ہزار 500 ارب روپے سے کم ہو کر تقریباً 3 ہزار ارب روپے رہ گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسٹیٹ بینک کا وہ قرضہ جس کی میعاد 2029 میں پوری ہونی تھی، اسے بھی مدت سے قبل واپس کر دیا گیا ہے۔ اس کامیاب حکمتِ عملی کے باعث پاکستان کا قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 70 فیصد تک آ گیا ہے۔
بہتر قرض نظم و نسق کے نتیجے میں مالی سال 2025 میں 850 ارب روپے کی بچت ہوئی، جبکہ مالی سال 2026 میں مزید 800 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی سے عام شہریوں پر مہنگائی اور ٹیکس کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی، ملک کا مالی استحکام مضبوط ہوگا اور اقتصادی خطرات کم ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر مالی استحکام سے ترقیاتی منصوبوں میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور بیرونی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ کامیابی پاکستان کی مؤثر معاشی پالیسیوں، ذمہ دار طرزِ حکمرانی اور درست فیصلوں کا عملی ثبوت ہے، جو ملکی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کر رہی ہے۔













