پاکستان میں ذیابیطس کے 2 کروڑ 50 لاکھ مریض رمضان میں روزے رکھتے ہیں، محفوظ روزے کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ ناگزیر ہے: ماہرین

پاکستان میں ذیابیطس کے شکار تقریباً 2 کروڑ 40 سے 2 کروڑ 60 لاکھ افراد رمضان المبارک کے دوران روزہ رکھتے ہیں، تاہم ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد رمضان سے قبل اپنے ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتی، جس کے باعث انہیں کم شوگر، زیادہ شوگر اور دیگر خطرناک پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بات اتوار کو کراچی میں منعقد ہونے والی 12ویں انٹرنیشنل ڈایابیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس کے دوران سامنے آئی، جس کا انعقاد بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈایابیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی (بائیڈ) نے کیا۔ کانفرنس میں ملک بھر کے سینئر ذیابیطس، اینڈوکرائنولوجی، کارڈیالوجی، گیسٹروانٹرولوجی اور انٹرنل میڈیسن کے ماہرین نے شرکت کی۔

ماہرین نے کہا کہ ذیابیطس کے بیشتر مریض مناسب طبی رہنمائی کے ساتھ روزہ رکھ سکتے ہیں، مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر مریض رمضان سے قبل یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ وہ طبی طور پر روزہ رکھنے کے اہل ہیں یا نہیں، ان کی ادویات یا انسولین کی خوراک میں کیا تبدیلی ضروری ہے اور سحری و افطار کے دوران انہیں کن احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے۔

کانفرنس کے چیف گیسٹ، پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے بانی اور سابق صدر پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 3 کروڑ 45 لاکھ افراد ٹائپ ٹو ذیابیطس جبکہ لگ بھگ تین لاکھ افراد ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیق کے مطابق ٹائپ ٹو ذیابیطس کے 70 سے 75 فیصد مریض رمضان میں روزہ رکھتے ہیں، جو تعداد کے لحاظ سے تقریباً 2 کروڑ 40 سے 2 کروڑ 60 لاکھ بنتی ہے، جبکہ ٹائپ ون ذیابیطس کے تقریباً 40 فیصد مریض بھی کم از کم کچھ دن روزہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ “روزہ رکھنا مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ یہ جانے بغیر روزہ رکھتے ہیں کہ وہ طبی طور پر اس کے اہل ہیں یا نہیں، ان کی دواؤں یا انسولین کی مقدار میں کیا رد و بدل ہونا چاہیے اور انہیں غذا اور پانی کے استعمال میں کن باتوں کا خیال رکھنا ہے۔ یہ تمام فیصلے صرف معالج ہی کر سکتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ اسلام کسی کو اپنی جان خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیتا اور صحت کے معاملے میں ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرنا دینی ذمہ داری بھی بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق صرف 10 سے 15 فیصد مریضوں کو طبی بنیادوں پر روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ مریض نہیں بلکہ معالج کرتا ہے۔

پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے صدر پروفیسر آفتاب محسن نے کہا کہ رمضان خود احتسابی، نظم و ضبط اور اعتدال کا مہینہ ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں اسے حد سے زیادہ کھانے پینے سے جوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر متوازن غذا، نیند کی کمی اور طبی منصوبہ بندی کے بغیر روزہ رکھنے سے صحت کے فوائد ضائع ہو جاتے ہیں۔

بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈایابیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر زاہد میاں نے کہا کہ ادارہ گزشتہ 12 برس سے یہ کانفرنس اسی مقصد کے تحت منعقد کر رہا ہے تاکہ مذہبی جذبے اور طبی تحفظ کے درمیان فاصلے کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم روزے سے منع نہیں کرتے، ہم محفوظ روزے کی بات کرتے ہیں۔”

ڈایابیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد سیف الحق نے کہا کہ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں ذیابیطس کے 70 سے 85 فیصد مریض ہر صورت روزہ رکھنا چاہتے ہیں، اس لیے محفوظ روزے سے متعلق آگاہی اب ایک انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم شوگر اور زیادہ شوگر رمضان کے دوران سب سے عام پیچیدگیاں ہیں، جن سے بروقت طبی مشورے، درست انسولین ڈوز، مناسب غذا اور پانی کے درست استعمال سے بچا جا سکتا ہے۔

پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کی سینئر نائب صدر ڈاکٹر سومیہ اقتدار نے کہا کہ مقامی زبانوں میں ڈیجیٹل ہیلتھ ایپس اور ٹیکنالوجی مریضوں کو شوگر مانیٹرنگ، ادویات کی یاددہانی اور محفوظ غذائی منصوبہ بندی میں مؤثر مدد فراہم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے رمضان کے دوران ڈیجیٹل ٹولز اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔

کارڈیالوجسٹ پروفیسر فیروز میمن نے خبردار کیا کہ پاکستان میں رمضان اکثر تلی ہوئی اور میٹھی اشیاء کے زیادہ استعمال کا سبب بن جاتا ہے، جو دل اور شوگر کے مریضوں دونوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعتدال کے ساتھ رکھا گیا روزہ دل کی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

کانفرنس میں پروفیسر بشیر کھوڑو، پروفیسر شبین ناز مسعود (سینئر گائناکالوجسٹ اور ڈایابیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جنرل سیکریٹری)، پروفیسر شہلا جاوید اکرم، پروفیسر حکیم علی ابڑو اور پروفیسر اشعر فواد سمیت دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا۔

ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر ذیابیطس کے مریض ڈاکٹر کے مشورے سے، درست ادویات، مناسب غذا اور باقاعدہ شوگر مانیٹرنگ کے ساتھ روزہ رکھیں تو وہ پیچیدگیوں سے بچ سکتے ہیں اور رمضان کے روحانی اور طبی فوائد بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

Exit mobile version