
برسبین انٹرنیشنل ٹینس ٹورنامنٹ، آرینا سبالینکا کا کامیابی سے اعزاز کا دفاع
عالمی نمبر ایک ٹینس اسٹار آرینا سبالینکا نے آسٹریلیا میں ایک بار پھر اپنی برتری ثابت کرتے ہوئے مارٹا کوسٹیوک کو اسٹریٹ سیٹس میں شکست دے کر برسبین انٹرنیشنل کا ٹائٹل کامیابی سے برقرار رکھ لیا۔
اتوار کے روز پیٹ رافٹر ایرینا میں کھیلے گئے فائنل میں سبالینکا نے 6-4 اور 6-3 سے فتح حاصل کی۔ مقابلہ ایک گھنٹہ اور 18 منٹ تک جاری رہا۔ سبز اور سنہری لباس میں ملبوس سبالینکا کے لیے یہ برسبین میں دوسرا، آسٹریلیا میں پانچواں اور کیریئر کا 22واں ڈبلیو ٹی اے ٹائٹل تھا۔
اس کامیابی کے ساتھ سبالینکا نے وکٹوریہ آزارینکا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے فعال کھلاڑیوں میں سب سے زیادہ ڈبلیو ٹی اے ٹائٹلز جیتنے والی کھلاڑیوں کی فہرست میں تیسری پوزیشن حاصل کر لی ہے، جہاں وہ اب صرف وینس ولیمز اور ایگا شوائٹیک سے پیچھے ہیں۔
سبالینکا نے پورے ٹورنامنٹ میں ایک بھی سیٹ ہارے بغیر ٹرافی اپنے نام کی، حالانکہ فائنل میں کوسٹیوک نے بھرپور مزاحمت کی۔ ٹرافی تقسیم کی تقریب کے دوران سبالینکا نے کہا،
“میں سب سے پہلے مارٹا اور ان کی ٹیم کو شاندار سیزن کے آغاز پر مبارکباد دینا چاہتی ہوں۔ امید ہے ہم آئندہ بھی فائنلز میں آمنے سامنے ہوں گے اور شائقین کو بہترین ٹینس دیکھنے کو ملے گی۔”
ٹورنامنٹ کے دوران دونوں کھلاڑیوں نے اعلیٰ معیار کا کھیل پیش کیا۔ سبالینکا نے فائنل تک رسائی کے لیے میڈیسن کیز اور کارولینا موخووا کو شکست دی، جبکہ کوسٹیوک نے امینڈا انیسی مووا، میرا اندریوا اور جیسیکا پیگولا جیسی ٹاپ 10 کھلاڑیوں کو ہرا کر فائنل تک رسائی حاصل کی۔
فائنل کے آغاز میں سبالینکا نے فوری برتری حاصل کرتے ہوئے 2-0 کی سبقت حاصل کی۔ اگرچہ کوسٹیوک نے واپسی کرتے ہوئے اسکور 3-3 سے برابر کر دیا، تاہم سبالینکا نے دسویں گیم میں دوبارہ بریک حاصل کر کے پہلا سیٹ اپنے نام کر لیا۔
دوسرے سیٹ میں بھی سبالینکا نے ابتدا ہی میں بریک حاصل کیا اور 3-0 کی واضح برتری بنا لی۔ اس بار کوسٹیوک کے لیے واپسی ممکن نہ ہو سکی اور سبالینکا نے اعتماد کے ساتھ میچ ختم کر دیا۔
میچ کے بعد سبالینکا نے کہا،
“اب میں صرف ایک جارحانہ کھلاڑی نہیں رہی۔ میں نیٹ پر کھیل سکتی ہوں، دفاع کر سکتی ہوں، سلائس استعمال کر سکتی ہوں۔ میں نے اپنے کیریئر میں اس تنوع پر بہت محنت کی ہے۔”
سبالینکا نے میچ میں اپنی پہلی سروس پر 81 فیصد پوائنٹس جیتے اور صرف تین بریک پوائنٹس کا سامنا کیا۔ یہ فتح آسٹریلین اوپن سے قبل ان کی شاندار فارم اور مضبوط تیاری کی عکاس ہے۔











