
خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیراعظم
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نجکاری کمیشن کے امور پر اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہے۔ پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی کامیاب نجکاری بارش کا پہلا قطرہ ہے۔
وزیراعظم نے نجکاری کمیشن میں اصلاحات کے حوالے سے کام تیز کرنے اور نجکاری کمیشن میں نجی شعبے اور مارکیٹ سے بہترین صلاحیتوں کے حامل متعلقہ افرادی قوت کو تعینات کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر تعیناتیاں انتہائی شفاف انداز میں کی جائیں۔وزیراعظم نے نجکاری کمیشن کو ڈیجیٹائز کرنے اور نجکاری کمیشن کے منصوبوں کا بین الاقوامی معیار کی فرم سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کمیشن میں پبلک ریلیشنز اور مارکیٹنگ کے شعبے کو مزید بہتر بنایا جائے۔
اجلاس کو نجکاری کمیشن میں جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن میں مارکیٹ سے فنانس، ہیومن ریسورس، قانون، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیا مینجمنٹ کے حوالے سے ایڈوائرز بھرتی کئے جائیں گے۔ ۔نجکاری کمیشن میں مارکیٹ سے اسٹریٹیجی، پالیسی، ٹرانزیکشن اور پاور کے شعبوں کے کنسلٹینس تعینات ہوں گے۔ اسٹریٹیجک نظم و ضبط ، مضبوط گورننس ، ادارہ جاتی استعداد کی بہتری، اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شفاف روابط نجکاری کمیشن کی جاری اصلاحات کی بنیاد ہیں ۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو ابتدائی طور پر دو بیچز میں رکھا گیا ہے ۔ پہلے بیچ میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالا الیکٹرک پاور کمپنی اور فیصل آباد الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری ہو گی، دوسرے بیچ میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری ہو گی۔











