بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

پاکستانی نوجوان کی چین کی شاندار علاقائی روایات اپناتے ہوئے گوانگ شی میں سان یوئے سان تہوار میں شرکت

چین کے جنوب گوانگ شی ژوانگ خود مختار علاقے کی فضا روایتی چینی تہوار "سان یوئے سان "کے دوران سریلے گانوں اور بھرپور علاقائی روایات سے لبریز ہے۔ ظفروال کے چھوٹے سے قصبے سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ پاکستانی طالب علم محمد عمر رفیق کے لئے یہ ایک شاندار ثقافتی تجربہ تھا۔

”سان یوئے سان”، جو چینی قمری کیلنڈر کے تیسرے مہینے کے تیسرے دن کو منایا گیا ہے، رواں سال 31 مارچ کو آیا۔

گوانگ شی ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹری میں ایک سال تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اس سال کے "سان یوئے سان” تہوار میں حصہ لیا۔ مختلف علاقائی گروہوں کے ہم جماعتوں کے ساتھ گانے گائے، روایتی پکوانوں کے ذائقے چکھے اور مخصوص ژوانگ علاقائی لوک کھیلوں میں شرکت کی۔ پرمسرت تہواروں کے درمیان انہوں نے گوانگ شی کی علاقائی ثقافتوں کے تنوع اور کھلے پن کا تجربہ کیا اور روایتی چینی ثقافت کے بارے میں تفصیل سے جانا۔

اس سرزمین پر قدم رکھنے کے بعد انہوں نے ایک ایسی ثقافت دریافت کی جو نہ صرف مالامال اور متنوع ہے بلکہ روزمرہ کی زندگی میں بھی سرایت کرتی ہے۔ عمر نے کہا کہ میرے آبائی شہر میں تہوار عام طور پر عید الفطر اور عید الاضحیٰ جیسے مذہبی تقریبات کے ارد گرد مرکوز ہوتے ہیں، جہاں لوگ رسم و رواج کے مطابق نماز پڑھتے ہیں اور کھانے کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ گوانگ شی میں سان یوئے سان ایک ایسا تہوار ہے جس سے سبھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کیمپس میں ایک اوپن ایئر سٹیج قائم کیا گیا تھا اور ہم بین الاقوامی طلبہ نے چینی طلبہ کے ساتھ مل کر مظاہرہ کیا۔ ماحول پرجوش تھا اور ہر کوئی جشن میں مکمل طور پر محو تھا۔

علاقائی پکوان گوانگ شی کے سان یوئے سان کی تقریبات کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ کیمپس کی تقریب کے دوران عمر کو 5 رنگوں کے چپچپے چاول کھانے کا موقع ملا، جو جامنی پتوں، سرخ نیلی گھاس اور ہلدی جیسے قدرتی اجزا سے رنگا ہوا ایک روایتی پکوان ہے، جو خوش قسمتی اور فصل کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھانوں میں گرلڈ گوشت، نان اور کری کا غلبہ ہے، جس میں شاندار ذائقے شامل ہیں۔ دوسری طرف گوانگ شی کے چاول رنگین، نباتاتی خوشبوؤں کے ساتھ ہلکے خوشبودار نرم اور چپچپے ہوتے ہیں اور ہر ایک کا اپنامنفرد ذائقہ ہے۔

کھانے کے علاوہ عمر نے بانس کے کھمبے سے چھلانگ لگانے کے روایتی ژوانگ کھیل میں بھی حصہ لیا۔ تیزی سے حرکت کرنے والے بانس کے کھمبوں سے گزرنے کے لئے تیز رفتاری اور تال کی ضرورت ہوتی ہے جو ایک چیلنج اور تفریح کا ذریعہ دونوں پیش کرتا ہے۔ عمر نے کہا کہ پہلے تو میں گھبرایا ہوا تھا اور غلط وقت پر کھمبوں پر قدم رکھتا رہا لیکن میرے ہم جماعت میری حوصلہ افزائی کرتے رہے، مجھے سکھاتے رہے کہ اپنے قدموں کو کس طرح ایڈجسٹ کرنا ہے۔ آہستہ آہستہ مجھے اپنی تال مل گئی اور موسیقی کے ساتھ چھلانگ بھی لگا سکتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اس کھیل میں شرکت پر میرے گوانگ شی کے دوستوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور ژوانگ ثقافت کی تعریف کی۔

ثقافت صرف زندگی کا ایک طریقہ نہیں ہے بلکہ جذباتی روابط کے لئے ایک پل بھی ہے۔ سان یوئے سان فیسٹول کے دوران عمر نے براہ راست نشر ہونے والی ایک تقریب میں حصہ لیا جہاں وہ اور ان کے ژوانگ ہم جماعت روایتی علاقائی لباس میں ملبوس تھے اور سامعین کو تہوار کی تاریخ اور رسم و رواج کے بارے میں بتایا۔ عمر نے کہا کہ شروع میں، میں تھوڑا پریشان تھا، فکر مند تھا کہ میں چینی زبان اتنی روانی سے بول نہیں سکتا لیکن میرے ہم جماعتوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور یہاں تک کہ مجھے ژوانگ زبان میں دعائیں دینا بھی سکھایا۔ انہوں نے خاص طور پر گوانگ شی کے سان یوئے سان فیسٹیول کے کھلے پن کی تعریف کی، جہاں بین الاقوامی طلبہ بغیر کسی رکاوٹ کے حصہ لے سکتے ہیں۔ گانے اور رقص سے لے کر کھانے پینے اور کھیلوں تک تہوار کا ماحول نہ صرف مقامی لوگوں کا بلکہ وہاں موجود ہر غیر ملکی دوست کا بھی تھا۔

حالیہ برسوں میں اپنے منفرد جغرافیائی فوائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گوانگ شی سان یوئے سان کو چین اور آسیان کے مابین اور اس سے آگے ایک اہم ثقافتی تبادلے کے پلیٹ فارم کے طور پر فروغ دے رہا ہے۔ کیمپس میں علاقائی سرگرمیوں سے لے کر چین۔ ویتنام سرحد پر دوستانہ مقابلوں اور دریا کے کنارے گانے کے تبادلوں تک یہ تہوار بین الاقوامی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ عمر کے کیمپس میں بہت سے غیر ملکی طالب علموں نے پہلے ہی ژوانگ لوک گیت اور روایتی دستکاری سیکھنی شروع کر دی ہے، کچھ نے سان یوئےسان کی کہانیوں کو اپنے آبائی ممالک میں لانے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔

گوانگ شی میں اپنے ایک سالہ قیام کے دوران عمر نے نہ صرف ای کامرس کی تعلیم حاصل کی ہے بلکہ روزمرہ کی زندگی میں چینی ثقافت کے تنوع کا بھی تجربہ کیا ہے۔ گوانگ شی نہ صرف حیرت انگیز مناظر بلکہ ثقافتی کہانیوں سے بھی مالامال ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہاں واقعی مختلف علاقائی ثقافتوں کے بقائے باہمی اور انضمام کا مشاہدہ کیا اور روایتی ثقافت کی زندگی کو محسوس کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کو دیکھتے ہوئے میں امید کرتاہوں کہ گوانگ شی کی کہانیوں کو پاکستان میں مزید دوستوں کو سناؤں گا تاکہ وہ اس سرزمین کی ثقافت کی خوبصورتی کی تعریف کرسکیں۔

جیسے جیسے رات ہوتی گئی سان یوئے سان کے گانے پورے کیمپس میں گونجتے رہے۔ عمر کے لئے یہ دھن نہ صرف بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے ان کے وقت کی ایک یادگار یاد ہے بلکہ ثقافتی تبادلے کی اہمیت کا گہرا احساس بھی ہے۔

اشتہار
Back to top button