
قومی یکجہتی کمیٹی کے افراد کو قانونی طور پر گرفتار کیا کوئی لاپتہ نہیں، ڈی آئی جی کوئٹہ
ڈی آئی جی اعتزاز گورایہ نے کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی سکیورٹی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کررہی ہے۔کوئٹہ میں ڈپٹی کمشنر سعد بن اسد اور ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی اعتزاز گورایہ کا کہنا تھا کہ ٹرین پرحملے کےبعد آپریشن میں دہشتگردوں کو ماراگیا، پانچ لوگوں کی لاشیں سول ہسپتال لائی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ قانون میں لاش کولینے کا حق ورثا کا ہوتا ہے، 14تاریخ کو لاشیں سول ہسپتال لائی گئیں، بی وائی سی والوں نے کہا لاشیں ہمیں دی جائیں، کہا گیا ان کے وارث ہم ہیں، اس دوران ہسپتال کی مارچری کو بھی توڑا گیا۔اعتزاز گورایہ کا کہنا تھا کہ 2لاشوں کولیکرپھراحتجاج شروع ہوا، اس دوران ایک اورلاش لائی گئی، پولیس نےفائرنگ کی توکیا ان کو ہی گولی لگنی تھی؟ بی وائی سی والوں نے ہسپتال انتظامیہ پر مارپیٹ کرکے لاشیں نکالی گئیں۔
ڈی آئی جی کوئٹہ نے کہا بی وائی سی کے دہشتگردوں نے املاک کو نقصان پہنچایا، احتجاج کرنےکاحق سب کا ہے سڑکیں بلاک کرنے کا نہیں، قانونی طورپر ان کو گرفتار کیا گیا،کسی کو لاپتہ نہیں کیا گیا، احتجاج میں پولزتوڑے گئے، فائبرآپٹکس کو توڑاگیا۔
انہوں کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کس چیز کےتحت یہ لوگ گرفتار کیے گئے، ایک بچہ آئس کریم بیچتا تھا جس کی لاش کے ساتھ دھرنا دیا گیا، یونیورسٹی کا گیٹ توڑا گیا پوسٹ آفس کو جلایا گیا، بلوچ یکجہتی کمیٹی سکیورٹی اداروں کیخلاف پروپیگنڈا کررہی ہے،16 ایم پی او کے تحت61افرادزیر حراست ہیں۔
اعتزاز گورایہ نے کہا کہ پولیس کی فائرنگ سے ہلاکتوں کی جھوٹی خبریں چلائی گئیں، 35بچوں کو ورثا کے حوالے کردیا گیا تھا، 61افراد گرفتار اور 13ایف آئی آر میں نامزد ہیں، بی وائی سی کے احتجاج میں پولیس کی گاڑیوں کو بھی نذرآتش کیا گیا، بلوچستان میں امن وامان خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ڈی آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، سرکاری اہلکار کوحبس بےجامیں رکھنے پر قانونی کارروائی ہوگی، کالعدم بی ایل اے نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد بن اسد نے کہا کہ دھرنے اور احتجاج کا طریقہ کار ہوتا ہے، روڈ بلاک کرنا اورانتظامی امورمیں مداخلت کون سا احتجاج ہے؟ ۔
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں امن وامان کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، کسی صورت بھی قانون کی خلاف ورزی قبول نہیں کریں گے، احتجاج کی جگہ کے تعین کا فیصلہ انتظامیہ کے پاس ہے،احتجاج کرنا کسی بھی سیاسی جماعت اور گروہ کا حق ہے۔