بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں دھرنا 26 جولائی تک موخر کردیا

جماعت اسلامی پاکستان نے کل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کل دیا جانا والا دھرناعاشورہ کےباعث 26 تاریخ تک موخر کرنے کا اعلان کردیا۔لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ عوام کو ریلیف نہیں مل رہا ہے، حکمرانوں کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئےہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی پی پی کی مد میں 42 ارب ڈالر پاکستان کے عوام نے دیے ہیں، یہ پیسے ہم سے بجلی کے بلوں اور ٹیکس کی مد میں وصول کیے جاتے ہیں، انہوں نے سوال اٹھایا کہ صدر مملکت آصف زرداری بتائیں انہوں نے کتنا ٹیکس دیاہے؟

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کل پورے ملک میں احتجاجی کیمپ لگائیں گے، فیصلہ کیا ہے اسلام آباد میں دھرنا 26 جولائی کو دیں گے، اگر حکومت سمجھتی ہے کہ دھرنا نہیں ہونا چاہیے تو عوام کو ریلیف دے۔یاد رہے کہ اس سے قبل یکم جولائی کو جماعت اسلامی نے بجلی و پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف 12 جولائی کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی ملک گیر ہڑتال پر مشاورت کر رہی ہے، حکومت کو ظالمانہ ٹیکس ختم کرنے پر مجبور کردیں گے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا تھا کہ ملک بھر میں شدید بحران ہے، بجلی کے بل بجلی بموں کی صورت میں عوام پر گرے ہیں، خواتین اپنے زیورات بیچ کربجلی کے بل دے رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول و گیس کی قیمت میں اضافہ کیا، پھر آئی ایم ایف کے مطالبے پر ٹیکسز لائے جا رہے ہیں، یہ عوام کو مزید ٹیکسوں کے نیچے دبانا چاہتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا تھا کہ جاگیرداروں سے کوئی ٹیکس نہیں لیاجا رہا، بڑے لوگ مزے کر رہے ہیں، حکومت کو کوئی شرمندگی ہو، وزیر اعظم اعزاز سے کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے مل کر بجٹ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ ریاستی نظام و اشرافیہ نے اچھی تعلیم صحت سے محروم کردیا ہے، صحت کی سہولیات پر ادویات کے خام مال پر ٹیکس لگا دیا ہے، جان بچانے والی ادویات پر بھی 20 فیصد ٹیکس لگا۔

مزید پڑھیے  سندھ اور پنجاب میں پولیو مہم کا آغاز، 5 کروڑ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جائینگے
Back to top button