بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

سرکاری ملازمین کی برطرفی پر نظر ثانی کی اپیل سماعت کے لیے منظور

عدالت عظمیٰ نے 16 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین کی برطرفی پر نظر ثانی کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرلی۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے استدعا کی کہ عدالت 20 اگست کا فیصلے کو معطل کرے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ پہلی سماعت پر سپریم کورٹ اپنا ہی دیا فیصلہ کیسے مسترد کر سکتی ہے؟ جبکہ دو فاضل ججز فیصلہ دینے والے بینچ کا حصہ تھے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر فیصلے کی معطلی چاہتے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ انسانی بنیادوں کا جائزہ حکومت لے سکتی ہےعدالت نہیں، کسی کے حقائق اور قانونی نکات سن کر فیصلے سے متعلق فیصلہ کریں گے۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ شفافیت اور میرٹ پر بھرتیوں کا ہے، حکومت سرکاری خزانے سے خیرات نہیں کر سکتی۔

جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سرکاری اداروں کا کام متاثر ہو رہا ہے، برطرف ملازمین کی جگہ نئی بھرتیاں بھی نہیں ہو سکتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیصلے سے 16 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔

جس پر جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ سرکاری اداروں کا کام پہلے بھی چلتارہا ،ا ب بھی چلے گا،
کھلے دل سے کیس سن رہے ہیں، اپنی غلطی نظر آئی تو اصلاح کریں گے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ پارلیمان سے منظور شدہ قانون کا دفاع کرنا ہی میرا کام ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حکومت کیا چاہتی ہے، درخواست میں کچھ واضح نہیں۔

مزید پڑھیے  سپریم کورٹ کے تین نئے ججز نے حلف اٹھا لیا

بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 29 نومبر سے شروع ہونے والے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔

Back to top button