بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے، عمران خان

وزیر اعظم کا امریکہ کو افغانستان میں کارروئی کے لیے اڈے دینے سے صاف انکار

وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کو افغانستان میں کارروئی کے لیے اڈے دینے سے صاف انکار کر دیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے بعد سی آئی اے کو سرحد پار انسداد دہشت گردی کے مشنز کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی بالکل اجازت نہیں دے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے غیر ملکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو افغانستان میں فضائی آپریشن کے لیے ائربیس نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔ ممکن ہی نہیں کہ ہم امریکہ کو افغانستان میں کارروائی کے لیے پاکستان میں اڈے دیں۔ امریکی چینل کو انٹرویو میں جب میزبان نے وزیراعظم عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ امریکی حکومت کو اجازت دیں گے کہ سی آئی اے یہاں پاکستان سے سرحد پار القاعدہ، داعش اور طالبان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مشنز  سر انجام دے سکے؟اس پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بالکل نہیں، اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ہم اجازت دیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی طرح کے اڈوں یا پاکستانی سرزمین سے افغانستان میں کسی بھی طرح کی کارروائی کی بالکل اجازت نہیں دیں گے۔۔امریکی ٹی وی چینل ایچ بی او کو پاکستان کے وزیراعظم کا دیا گیا یہ انٹرویو اتوار کی شام نشر کیا جائے گا۔یاد رہے کچھ روز قبل ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے پاکستان میں امریکی ائر بیس کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان باتوں میں کسی قسم کی کوئی صداقت نہیں ہے اور پاکستان میں کوئی بھی امریکی بیس نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی تجویز زیر غور تھی نہ ہے، پاکستان میں امریکی بیس سے متعلق قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔اد رہے کچھ روز قبل ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چودھری نے پاکستان میں امریکی ایئر بیس کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان باتوں میں کسی قسم کی کوئی صداقت نہیں ہے، پاکستان میں کوئی بھی امریکی بیس نہیں ہے، ایسی کوئی تجویز زیر غور تھی نہ ہے، پاکستان میں امریکی بیس سے متعلق قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا  تھاکہ ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے، پاکستان اور امریکا کے درمیان 2001 سے ایئر لائن آف مواصلات فریم ورک ہے، دونوں ملکوں کے درمیان 2001 سے ایئر لائن آف کمیونی کیشن (اے ایل او سی) اور گرانڈ لائنز آف کمیونی کیشن (جی ایل او سی) کوآپریشن ہے، پاکستان نے امریکا کیساتھ کوئی نیا معاہدہ نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button