بسم اللہ الرحمن الرحیم

بین الاقوامی

دوحہ سمجھوتے کی خلاف ورزی، طالبان نے جوابی کارروائی کی وارننگ دیدی

امریکہ کی طرف سے سمجھوتے کی خلاف ورزی نے طالبان کے لئے جوابی کاروائی کا راستہ ہموار کر دیا ہے

طالبان نے امریکہ کو ،یکم مئی تک افغانستان سے فوجوں کا انخلا نہ کر کے 2018 کے، دوحہ سمجھوتے کی خلاف ورزی کا قصوروار ٹھہرایا اور جوابی کاروائی کی وارننگ دی ہے۔ طالبان کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے سمجھوتے کی خلاف ورزی نے طالبان کے لئے جوابی کاروائی کا راستہ ہموار کر دیا ہے۔ طالبان منتظمین کی طرف سے اس معاملے سے متعلق فیصلے کا انتظار کیا جا رہاہے، فیصلہ جاری ہونے کے بعد اس کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کئی ماہ جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد 2018 میں طالبان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کی رو سے یکم مئی تک تمام غیر ملکی فورسز کا افغانستان سے انخلا ضروری تھا۔ امریکہ کے صدر جو بائڈن نے جاری کردہ اعلان میں کہا تھا کہ 11 ستمبر تک افغانستان سے باقی ماندہ 2 ہزار 500 امریکی فوجیوں کونکال لیا جائے گا۔دوسری طرف افغانستان کے جنوب میں قندھار ائیر پورٹ میں موجود امریکی فوجی بیس پر راکٹ حملہ کیا گیا ہے۔ افغانستان میں امریکی یونٹوں کے ترجمان سونی لیگیٹ نے کہا ہے کہ حملے میں کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔ لیگیٹ نے کہا ہے کہ حملے کے بعد جوابی کاروائی کی گئی ہے اور ائیر پورٹ پر گرانے کے لئے تیار چند راکٹوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button