بسم اللہ الرحمن الرحیم

بین الاقوامیقومی

ممبئی میں 53 میڈیااہلکاروں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق

ممبئی، چنئی(ساوتھ ایشین وائر)

ہندوستان میں کورونا وائرس کا خطرہ لگاتار بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ الگ الگ حصوں میں لگاتار ان لوگوں کے کورونا وائرس پازیٹو ہونے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں جو اس کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ممبئی میں صحافیوں کے کورونا پازیٹو پائے جانے کی خبر کے ایک دن بعد چنئی میں بھی کچھ اسی طرح کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

چنئی میں ایک نیوز چینل کے 25 ملازمین کورونا پازیٹو پائے گئے ہیں۔ اس نیوز چینل کے تقریبا 94 لوگوں کا کورونا وائرس ٹیسٹ کروایا گیا ہے۔ 25 ملازمین کے کورونا پازیٹو پائے جانے کے بعد چینل کو اپنا لائیو پروگرام بھی معطل کرنا پڑا ہے۔ نیوز چینل کے بقیہ لوگوں کو کوارنٹائن کر دیا گیا ہے۔

مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں کم سے کم 53 میڈیااہلکار ایسے ہیں جن کے کو رونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق  ہوئی ہے۔ یہ اطلاع میونسپل کارپوریشنکے ایک افسرنے دی۔انہوں نے بتایا کہ کووڈ 19 کی جانچ کے لیے 16 اور 17 اپریل کو آزاد میدان میں خصوصی کیمپ  لگایا گیا تھا اور اس دوران 171 میڈیااہلکاروں  کے نمونے لیے گئے تھے جن میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے صحافی ، فوٹوگرافر اور کیمرا مین شامل تھے۔

بی ایم سی کے ترجمان  وجئیکھابلے نے بتایا،کل 171 نمونوں میں سے 53 کو رونا وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے زیادہ ترمیں ابھی تک کوئی علامت نہیں ہے۔

کھابلے نے بتایا، سبھی متاثرین  کوآئسولیشن وارڈ میں رکھا جائیگا اور اس کے لیے مناسب جگہ  کی تلاش کرنے کی کارروائی چل رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان کے رابطہ میں آئے لوگوں کا پتہ لگانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے 20 اپریل کو ایک نوجوان صحافی کو ان کے کو رونا پازٹیو ہونے کی جانکاری دی گئی تھی جن کے دو بچے ہیں اور ماں باپ بھی بیمار ہیں۔

ساوتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بی ایم سی سے جانکاری ملنے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے اس کے بارے میں اپنے بیورو چیف کو بتایا۔انہوں نے کہا، مجھ سے صرف یہ کہا گیا کہ اپنا خیال رکھو اور کچھ دنوں کے لیے باہر مت نکلو۔ رپورٹر نے کہا کہ اس کویہ جواب تب ملا جب اس نے ایک بھی دن چھٹی لیے بنا ایک مہینے سے زیادہ وقت تک کام کیا اور بیورو چیف سے ہر روز کہتا رہا کہ رپورٹروں پر فیلڈ پر بھیجنے کے لیے دباو نہ ڈالیں۔ ایک دوسرے صحافی  نے کہا کہ اپنی زندگی خطرے میں ڈالنے والے صحافیوں کے ساتھ مدیران اورنیوز چینل مالکوں کا سلوک مایوس کن ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button