پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے حرمین شریفین کے دفاع کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے یہ بات آج سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راجہ ناصر عباس کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف نکات کے جواب میں کہی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے تمام قانونی اور آئینی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے عدم تعاون کے باعث وفاقی حکومت کے پاس صوبے میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا کے مشاورتی نظام میں مختلف شعبوں کے ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام نئے نظام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے امورِ داخلہ کے وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے وفاقی سیکرٹریز اور ان کے بچوں کو پہلے جاری کیے گئے بلیو پاسپورٹس کے حوالے سے قانون سازی کرنے کا اعلان کیا جس کے تحت حکومت کو بلیو پاسپورٹس منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں بلیو پاسپورٹس کے اجرا سے ملک کی عالمی ساکھ اور درجہ بندی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
وزیرِ مملکت نے یہ بے قاعدگی دور کرنے کے لیے متعلقہ قوانین میں ترمیم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
ان خیالات کی تائید کرتے ہوئے وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے اس امر پر زور دیا کہ سرکاری پاسپورٹس صرف سرکاری عہدیدار ہی استعمال کریں۔ انہوں نے جاری کیے گئے بلیو پاسپورٹس کی مجموعی تعداد کو ضابطے میں لانے کی فوری ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
ایوان نے دو تعزیتی قراردادیں منظور کرتے ہوئے مرحوم سینیٹرز تاج محمد آفریدی اور جمال سید میاں کو جمہوریت کے لیے خدمات پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
سینیٹ میں مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا بھی کی گئی اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
سینیٹر تاج محمد آفریدی مارچ دو ہزار پندرہ میں فاٹا سے سینیٹ کے آزاد رکن منتخب ہوئے اور مارچ دو ہزار اکیس تک خدمات انجام دیتے رہے۔
وہ بارہ جون دو ہزار چوبیس کو ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔
سینیٹر جمال سید میاں بھی مارچ انیس سو پچاسی میں فاٹا سے سینیٹ کے آزاد رکن منتخب ہوئے اور مارچ انیس سو اکانوے تک خدمات انجام دیتے رہے۔
وہ رواں ماہ کی پندرہ تاریخ کو انتقال کر گئے تھے۔
ایوان نے پاسپورٹس (ترمیمی) بل دو ہزار چھبیس اور فوجداری قوانین (ترمیمی) بل دو ہزار چوبیس کی منظوری دے دی ہے۔
ایوان کا اجلاس اب کل دن گیارہ بجے ہوگا۔
