پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،خیبر پختونخوامیں ایمرجنسی، گورنر راج کے نفاذ کی منظوری

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دو قراردادیں منظورکی گئی ہیں جن میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق صدرمملکت کی جانب سے رواں ماہ کی گیارہ تاریخ کو جاری کیے گئے حکم ناموں کی منظوری دی گئی ۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔

پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چودھری نے اجلاس میں قراردادیں پیش کیں۔

انہوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق صدر مملکت کی جانب سے رواں ماہ کی گیارہ تاریخ کو جاری کیے گئے دو صدارتی فرمان بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے۔

وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے اپنے خطاب میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ان حکم ناموں کی منظوری کی آئینی ضرورت کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے گزشتہ روز خیبر پختونخوا میں آئین کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدارتی فرمان کی منظوری دی۔

وزیرقانون نے کہا کہ صوبے میں سکیورٹی کی سنگین صورتحال اور اس مسئلے سے نمٹنے میں صوبائی حکومت کی ناکامی کے پیش نظر ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ آخری حل کے طور پر کیا گیا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے دہشت گردی کے خاتمے، عوامی شکایات کے ازالے اور خیبر پختونخوا کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کی غرض سے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

ایمل ولی خان نے امید ظاہر کی کہ خیبر پختونخوا میںنئے انتظامی بندوبست سے صوبے میں امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا قومی مفاد کوپارٹی کی سیاست پر ترجیح دی جانی چاہیے۔

مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے وزیرسردار محمد یوسف نے ملک کے استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ لے کر چلنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

انہوں نے حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے لیے مشترکہ حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

محسن نقوی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے امن بحال کرنے میں کامیابی حاصل ہوگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے زیادہ اتحادکی ضرورت پر زور دیا۔

امور کشمیر و گلگت بلتستان کے وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں موجودہ انتظامی بندوبستصوبے میں امن کی مکمل بحالی تک جاری رہنا چاہئے۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

↑
Exit mobile version