سینیٹ اورقومی اسمبلی کی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق

قومی اسمبلی نے آج ایک قرارداد منظور کی جس میں صدر مملکت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دی گئی۔

یہ قرارداد پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوھدری نے پیش کی تھی۔

اس سے قبل قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کے زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں پھر شروع ہوا۔

اجلاس کے آغاز میں پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوھدری نے صدر مملکت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کو بحث کیلئے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

سینیٹ نے بھی صوبہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد منظور کی ہے۔

سینیٹ کا اجلاس آج پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کے زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس کے آغاز پر پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے صدر کی جانب سے جاری کردہ ایمرجنسی کے نفاذ کو بحث کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اِس امر پر زور دیا کہ صوبے میں داخلی انتشار اور دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے صوبائی حکومت کی عدم سنجیدگی کے باعث ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ ضروری ہو گیا تھا۔

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرنے سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی قیادت ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی سے بُری طرح متاثرہ ہوا ہے اسی لئے وفاقی حکومت کو یہ مشکل لیکن آئینی فیصلہ کرنا پڑا۔

ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث ہنگامی حالت نافذ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

انہوں نے دہشت گردی کا پوری قوت سے مقابلہ کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔

فاروق ستار نے کہا کہ صوبے کی سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کا نفاذ ناگزیر ہو گیا تھا۔

وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کی جانب سے یقین دہانیاں نہ ملنے کے بعد مجبوری کے تحت خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو اقتصادی ترقی کی راہ پر آگے بڑھانے کیلئے پالیسیوں کا تسلسل اور استحکام ضروری ہے۔

ایوان کا اجلاس اب جمعہ کو صبح گیارہ بجے ہوگا۔

↑
Exit mobile version