وفاقی وزیر برائے سمندرپار پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین نے کہا ہے کہ پاکستان ہنرمند اور تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جو یورپی یونین کے رکن ممالک کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے پاکستانیوں کے لیے یورپی ممالک میں قانونی روزگار کے مواقع بڑھانے اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔
وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے ان خیالات کا اظہار وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی محمد عون چوہدری کے ہمراہ یورپی یونین کے کمشنر برائے داخلی امور و مائیگریشن میگنس برونر سے ملاقات کے دوران کیا، جو یورپی یونین کے وفد کی قیادت کر رہے تھے۔
ملاقات میں قانونی مائیگریشن، ٹیلنٹ پارٹنرشپ، غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام، سمندر پار پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ اور پاکستانی افرادی قوت کی یورپی لیبر مارکیٹ تک رسائی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ صحت، تعمیرات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، ٹرانسپورٹ، تکنیکی شعبوں سمیت دیگر کئی شعبوں میں پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق اگست 2026ء تک یورپی یونین کے رکن ممالک میں ملازمت کے لیے پاکستانی کارکنوں کی رجسٹریشن 9,057 تک پہنچ چکی ہے۔
وفاقی وزیر نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان مئی 2025ء میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اور تین سال کے دوران پاکستانی کارکنوں کے لیے 10,500 ملازمتوں کے مواقع کے اعلان کو قانونی مائیگریشن کے فروغ میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے جرمنی، فن لینڈ، یونان اور آئرلینڈ سمیت دیگر یورپی ممالک کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے عملی انتظامات کو فروغ دینے کی تجویز پیش کی۔
انہوں نے جنوبی کوریا کے ساتھ پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کے کامیاب تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اپنی محنت، مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے عالمی لیبر مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ مؤثر نگرانی، سفری دستاویزات کی جانچ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سہولت کاروں کے خلاف کارروائی سمیت مختلف اقدامات سے غیر قانونی مائیگریشن میں تقریباً 47 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی مائیگریشن کی روک تھام اور قانونی روزگار کے مواقع میں اضافہ پاکستان کی پالیسی کے اہم اہداف ہیں۔
ملاقات کے دوران مشترکہ لائحہ عمل، سالانہ تعیناتی اہداف، مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق پیشہ ورانہ تربیت، زبان کی تعلیم، ویزا پراسیسنگ میں سہولت اور پیش رفت کے جائزے کے لیے مشترکہ تکنیکی ورکنگ گروپ کے قیام کی تجاویز بھی زیرِ بحث آئیں۔
یورپی یونین کے وفد کے سربراہ میگنس برونر نے مائیگریشن کے شعبے میں وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی کوششوں کو سراہا۔ دونوں جانب سے قانونی نقل مکانی کے فروغ، معلومات کے تبادلے اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت اور قانونی روزگار کے فروغ کے لیے تعاون مزید وسعت اختیار کرے گا، جس سے دونوں فریقین کو باہمی طور پر فائدہ پہنچے گا۔
