نیکی کا صلہ

ایک گاؤں میں حامد نام کا ایک غریب مگر نیک دل نوجوان رہتا تھا۔ وہ محنت مزدوری کرکے اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتا تھا۔ ایک دن اسے راستے میں ایک بھاری بٹوا ملا۔ بٹوے میں کافی رقم اور کچھ ضروری کاغذات تھے۔

حامد چاہتا تو وہ رقم اپنے گھر کے خرچ کے لیے استعمال کر سکتا تھا، کیونکہ اس کے گھر میں بھی ضرورت تھی، مگر اس نے امانت میں خیانت کرنا گوارا نہ کیا۔ اس نے بٹوے میں موجود کاغذات کی مدد سے مالک کا پتا تلاش کیا اور بٹوا اس کے حوالے کر دیا۔

بٹوا ملنے پر مالک بہت خوش ہوا اور حامد کو انعام دینا چاہا، مگر حامد نے کہا، ’’میں نے صرف اپنا فرض ادا کیا ہے۔‘‘ مالک نے حامد کی ایمانداری سے متاثر ہو کر اسے اپنے کاروبار میں ملازمت کی پیشکش کی۔

حامد نے محنت اور دیانت داری سے کام کیا۔ کچھ ہی عرصے میں وہ مالک کا قابلِ اعتماد ساتھی بن گیا اور اس کی زندگی خوشحال ہوگئی۔

سبق: انسان کو مشکل حالات میں بھی ایمانداری اور نیکی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نیک نیت اور دیانت دار لوگوں کے لیے کامیابی کے راستے کھول دیتا ہے۔

Exit mobile version