اسلام آباد: سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ سکھر۔حیدرآباد موٹروے منصوبے پر رواں سال کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔
ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے بتایا کہ موٹروے کے پانچ میں سے تین سیکشنز کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ ٹینڈرنگ کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی آمدن میں اضافے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
دریں اثنا، سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے تحریری جواب میں ایوان کو بتایا کہ حکومت بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعاون کے مختلف معاہدوں کے ذریعے لیبر موبیلیٹی کے مواقع کو وسعت دی گئی ہے۔ انہوں نے اٹلی کے ساتھ ہونے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت زراعت، تعمیرات، صحت، ہوٹلنگ، لاجسٹکس اور آئی سی ٹی سمیت اہم شعبوں میں تین سال کے لیے سالانہ تقریباً 3500 پاکستانی کارکنوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔
چوہدری سالک حسین نے مزید بتایا کہ ملازمین کی شمولیت اور کوٹے کے مؤثر استعمال کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔
اپوزیشن ارکان کے نکات کا جواب دیتے ہوئے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی اور ان کی اہلیہ کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بانی سے ملاقاتوں کے دوران جیل قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی اور ان ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
ادھر ایوان بالا نے دو بل بھی منظور کر لیے جن میں "پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل بل 2026” اور "اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی بل 2026” شامل ہیں۔
سینیٹ کا اجلاس اب پیر کی شام پانچ بجے دوبارہ ہوگا۔
