اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا اسرائیل لبنان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین پر بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ سیکریٹری جنرل نے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور اس میں امریکہ کے کردار کو سراہا ہے، جس نے اس معاہدے میں سہولت کاری کی۔

ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ دونوں جانب کشیدگی اور انسانی نقصان کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو مثبت پیش رفت سمجھتا ہے، خاص طور پر بلیو لائن کے اطراف جاری جھڑپوں کے تناظر میں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد قرارداد 1701 پر مکمل عملدرآمد کو ایک مستقل جنگ بندی اور دیرپا حل کی بنیاد سمجھتا ہے۔

اقوام متحدہ کے نمائندہ برائے لبنان جینین ہینس-پلاشخارت سفارتی رابطوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔

سیکریٹری جنرل نے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی معاہدہ خطے میں دیرپا اور جامع امن کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوگا۔

انہوں نے لبنان میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک میں انسانی ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ شہری آبادی تشدد کا سب سے زیادہ نشانہ بن رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور لبنان نے واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جنگ بندی پر اتفاق کیا، جو مقامی وقت کے مطابق تل ابیب اور بیروت میں آدھی رات سے نافذ العمل ہوئی۔

یہ جنگ بندی امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آئی، تاہم لبنانی گروپ حزب اللہ ان مذاکرات میں شامل نہیں تھا۔

Exit mobile version