امریکا اور اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ، ایران کی جانب سے بھی بھرپور جواب

امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، آیت اللہ خامنہ ای کے دفاتر کے قریب ابتدائی حملہ کیا گیا، صدارتی دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا، تہران سمیت کئی شہروں میں سمندر اور فضا سے 30 مقامات پر میزائل داغے، ایران نے بھی فتح خیبر کے نام سے جوابی حملہ کر دیا جس سے اسرائیل دھماکوں سے گونج اٹھا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر حملے کیے جا رہے ہیں جبکہ ایران بھی بھرپور جواب دے رہا ہے، برطانیہ نے وضاحت کی ہے کہ برطانیہ اس حملے میں شامل نہیں ہے، جرمنی نے کہا ہے کہ وہ پہلے ہی حملے سے آگاہ تھا جبکہ یوکرینی وزارت خارجہ نے ایرانی عوام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے کہا ہے کہ امریکی اسرائیلی حملوں میں پاسداران انقلاب کے کئی سینئر کمانڈر اور سیاسی اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔

اسرائیل کا عراق پر بھی حملہ

امریکی سرپرستی میں اسرائیل نے عراق پر بھی حملہ کر دیا، بغداد میں حاشد شعبی پی ایم ایف ہیڈکوارٹرز پر اسرائیلی حملہ میں ایک شخص ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ہوائی آپریشن معطل کر دیئے گئے ہیں۔

ایران کا بیلسٹک میزائلوں سے جوابی حملہ

ایران نے اسرائیل کے خلاف فتح خیبر کے نام سے آپریشن شروع کر دیا، اسرائیل پر 75 میزائل داغے گئے، بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا، پورے اسرائیل میں سائرن بج گئے، اسرائیل کے شمالی علاقے حفیضہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، مقبوضہ بیت المقدس میں بھی دھماکے ہوئے۔

عرب میڈیا کے مطابق شمالی اسرائیل دھماکوں سے گونج اٹھا ہے، ایران نے وسیع پیمانے پر ڈرون اور میزائل چلا دیئے، دارالحکومت تل ابیب میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی دھماکے ہوئے ہیں، قطر کی فضائی حدود میں ایرانی میزائل تباہ کیے گئے، ابوظہبی میں بھی زور دھماکے ہوئے ہیں جبکہ بحرین میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں، بحرین میں امریکی اڈے اور امریکی نیوی کے پانچویں بیڑے کو نشانہ بنایا گیا۔

قطریاتی نشریاتی ادارے کے مطابق کویت میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ابوظہبی اور دبئی میں مزید دھماکے ہوئے ہیں۔

ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے جوابی وار میں 5 اہم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل برسائے گئے، نشانہ بننے والے اڈوں میں العدید ایئر بیس قطر، السالمیہ بیس کویت شامل ہیں۔

الظفرہ ایئر بیس یو اے ای بھی ایرانی میزائلوں کا نشانہ بنا، امریکی اڈہ بحرین اور کنگ حسین ایئر بیس اردن بھی شامل ہیں، ایرانی حملوں کے بعد کویت، بحرین اوریو اے ای میں سائرن بجتے رہے جبکہ متحدہ عرب امارات میں ایک ایشیائی شہری ہلاک بھی ہوا ہے۔

بحرینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی پانچویں بحری بیڑے کے سروس سینٹر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، بحرین میں امریکی سفارتی عملے کو پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا، خلیجی ممالک نے اپنی فضائی حدود بھی بند کر دی ہیں۔

دوحہ میں مزید دھماکے سنے گئے ہیں جبکہ ابوظہبی کے مرکزی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ملی ہیں۔

ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم نے امریکا کو خبردار کیا تھا، آپ نے ایسا عمل شروع کردیا جس کا خاتمہ اب آپ کےاختیارمیں نہیں، تمام امریکی اڈے ایران کی پہنچ میں ہیں۔

Exit mobile version