سی پیک کے تحت پاکستانی بندرگاہوں کی ترقی سے تجارت کی نئی راہیں کھل گئیں

China-Pakistan Economic Corridor (سی پیک) کے تحت پاکستانی بندرگاہوں کی ترقی نے خطے میں تجارت اور باہمی روابط کے فروغ کیلئے نئی راہیں ہموار کر دی ہیں، جبکہ پاکستان کی منفرد اسٹریٹجک حیثیت وسطی ایشیا کی اقتصادی ترقی کا محور بنتی جا رہی ہے۔

امریکی جریدے Eurasia Review میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت بندرگاہی ڈھانچے کی بہتری سے خطے میں تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ مضمون میں سی پیک کے تناظر میں پاکستان، ازبکستان اور قازقستان کے درمیان ابھرتی شراکت داری کو علاقائی ترقی کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ازبکستان اور قازقستان کے صدور نے اپنے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران سی پیک کے تحت معاشی تبدیلی اور باہمی تعاون کے ایک نئے دور کے آغاز پر زور دیا۔ اس پیش رفت کو وسطی ایشیائی ممالک کیلئے گرم پانیوں تک رسائی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ سی پیک کے ساتھ انضمام سے ازبکستان کو کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کے ذریعے ایک قابلِ اعتماد جنوبی تجارتی راستہ میسر آئے گا، جبکہ قازقستان پاکستان کے ذریعے اپنی برآمدات کو نئی منڈیوں تک پہنچانے کے قابل ہو سکے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف علاقائی روابط کو مضبوط کرے گی بلکہ پاکستان کو وسطی ایشیا اور عالمی منڈیوں کے درمیان ایک اہم تجارتی پل کی حیثیت بھی دلائے گی۔

Exit mobile version