چین کے مشرقی صوبے شان ڈونگ کے شہر جینان میں واقع چھی لو یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (شان ڈونگ اکیڈمی آف سائنسز) کے شان ڈونگ تجزیاتی اینڈ تجرباتی مرکز کی سنتھیسز لیبارٹری میں 25 سالہ پاکستانی طالبہ خدیجہ خالد "فلوریسنٹ پروبز کے درمیانی مرکبات” کے استحکام کا تجزیہ کر رہی ہیں۔ قریب ہی ان کے سرپرست میڈیسن انوویشن اینڈ فارماکولوجی ریسرچ گروپ کے سربراہ وانگ چھوان بو بیماریوں کی تشخیص میں فلوریسنٹ مالیکیولز کے استعمال کی وضاحت کر رہے ہیں۔پنجاب کے شہر رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والی خدیجہ ڈیڑھ سال قبل کیمسٹری میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے چھی لو یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی آئیں۔ ان کی موجودہ تحقیق دائمی بیماریوں کی پیش رفت کی نگرانی کے لئے فلوریسنٹ پروبز کی تیاری پر مرکوز ہے۔خدیجہ نے کہا کہ یہ میرا پہلا موقع ہے کہ میں اپنا آبائی شہر چھوڑ کر کسی دوسرے ملک آئی ہوں۔ ابتدا میں مجھے فکر تھی کہ کیا میں یہاں خود کو ڈھال سکوں گی یا نہیں لیکن چینی عوام کی گرمجوشی اور دوستی نے مجھے گھر جیسا احساس دلایا۔خدیجہ نے بتایا کہ اسلام آباد کو باغوں کا شہر کہا جاتا ہے جہاں مارگلہ کے پہاڑوں اور راول جھیل جیسے خوبصورت مناظر ہیں جو شان ڈونگ کے دارالحکومت جینان سے مشابہت رکھتے ہیں جہاں چھیان فو پہاڑ اور دامینگ جھیل جیسے دلفریب مقامات موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان دونوں شہروں میں بہت سی مماثلتیں ہیں اسی لئے مجھے یہاں اجنبیت محسوس نہیں ہوتی بلکہ سکون ملتا ہے۔خدیجہ میڈیسن انوویشن اینڈ فارماکولوجی ریسرچ گروپ کی رکن ہیں جس میں تقریباً 30 افراد شامل ہیں جن میں آسٹریلین اکیڈمی آف سائنسز کے ایک رکن، 8 چینی پی ایچ ڈی محققین اور چین اور پاکستان کے کئی طلبہ شامل ہیں۔ یہ ٹیم فیٹی لیور، السریٹیو کولائٹس اور ہائپر لیپیڈیمیا جیسی دائمی بیماریوں کے لئے نئی ادویات کی تیاری اور طبی آزمائشوں پر کام کر رہی ہے۔وانگ چھوان بو نے کہا کہ ہماری ٹیم مختلف ممالک اور ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہے لیکن ہم سب کا مشترکہ مقصد انسانی صحت کو بہتر بنانا ہے۔ ہماری تحقیق کے نتائج دنیا بھر کے لوگوں کو فائدہ پہنچائیں گے۔پنجاب سے تعلق رکھنے والے اسامہ خالد بھی اسی تحقیقی گروپ میں آرگینک کیمسٹری میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ چینی جامعات بہترین تحقیقی مواقع اور وافر ماہر وسائل فراہم کرتی ہیں۔ اسامہ نے کہا کہ چین میں خاص طور پر سنتھیٹک کیمسٹری کے شعبے میں جدید سہولیات اور انفراسٹرکچر موجود ہے۔ جب بھی مجھے کسی مشکل کا سامنا ہوتا ہے تو میرے اساتذہ اور ساتھی طلبہ ہمیشہ صبر اور توجہ کے ساتھ رہنمائی کرتے ہیں۔پیشہ ورانہ علم کے حصول کے علاوہ اسامہ نے چین میں جدید طرز زندگی کی سہولتوں کا بھی تجربہ کیا ہے۔ 27 دسمبر 2025 کو جینان میں میٹرو لائن 4، 6 اور 8 کے افتتاح سے شہر کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں نمایاں بہتری آئی۔ اسامہ خاص طور پر شہر کے انفراسٹرکچر اور آسان رسائی سے بہت متاثر ہوئے۔شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے پلیٹ فارم کے ذریعے دونوں پاکستانی طلبہ نے سرحد پار دوستیوں کا بھی تجربہ حاصل کیا۔ انہوں نے جولائی 2025 میں چین کے ساحلی شہر چھنگ ڈاؤ میں ایس سی او کے زیرِ اہتمام یوتھ لرننگ سرگرمی میں حصہ لیا۔ اس پروگرام میں ایس سی او ممالک کے 100 بین الاقوامی طلبہ نے ایک ہفتے تک سیمینارز، کورسز، ثقافتی سرگرمیوں اور مقامی جامعات، چھنگ ڈاؤ بندرگاہ اور تاریخی و ثقافتی علاقوں کے دورے کئے۔ دونوں طلبہ نے اس سرگرمی میں شرکت کی اور اختتام پر اسناد حاصل کیں۔اسامہ نے کہا کہ اس دورے کے دوران میں نے چین کی جدیدیت اور تخلیقی صلاحیتوں کی نمایاں علامات دیکھیں، جن میں ہائیر، چھنگ ڈاؤ بندرگاہ شامل ہیں اور میں نے ساحل کے ساتھ سمندر کی سیر بھی کی۔ اس سے مجھے چین میں عملی مہارتوں اور صلاحیتوں کی تربیت پر دی جانے والی توجہ کا بخوبی اندازہ ہوا۔خدیجہ نے کہا کہ اس سرگرمی نے مجھے مختلف ممالک کے نئے دوست بنانے کا موقع دیا اور ایس سی او اور چین کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ تعاون کے بارے میں میری سمجھ بوجھ کو مزید گہرا کیا۔مستقبل کے حوالے سے خدیجہ چین میں ہی اپنی تعلیم جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور ماسٹرز کے بعد پی ایچ ڈی کرنے کی خواہاں ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ پاکستان واپس جا کر اپنی لیبارٹری قائم کرنا چاہتی ہیں جہاں ملک بھر کے طلبہ اپنی پیشہ ورانہ مہارتیں بہتر بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان کے ہر حصے سے طلبہ اس لیبارٹری میں آ سکیں اور سائنسی تحقیق کا عملی تجربہ حاصل کریں۔اسامہ نے نشاندہی کی کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی ترقی کے ساتھ توانائی، ٹرانسپورٹ اور زراعت جیسے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں اضافہ ہوا ہے جس سے بائیومیڈیسن کے شعبے میں بھی تبادلے فروغ پا رہے ہیں۔ وہ ادویاتی کیمسٹری کی تحقیق میں اس تعاون میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے طلبہ ایک دوسرے سے سیکھ کر مشترکہ ترقی کریں گے۔وانگ چھوان بو کا ماننا ہے کہ چین اور پاکستان، دونوں بڑی آبادی والے ممالک ہونے کے ناطے ادویات کی تیاری کی وسیع ضرورت رکھتے ہیں جس کے باعث بائیومیڈیسن کے شعبے میں دوطرفہ تعاون انتہائی اہم ہے۔ وانگ نے کہا کہ اس میدان میں تعاون کو مضبوط بنانا نہ صرف ہمارے دونوں ممالک کے درمیان سائنسی ترقی کو فروغ دے گا بلکہ عالمی صحت کے لئے بھی مثبت کردار ادا کرے گا۔
پنجاب سے شان ڈونگ تک: پاکستانی طلبہ سائنسی تحقیقی تبادلوں کے ذریعے چین۔پاکستان دوستی سے فیض یاب
