این ڈی ایم اے کا انفراسٹرکچر آڈٹ پروگرام پر قومی سیمینار

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آج اسلام آباد میں انفراسٹرکچر آڈٹ پروگرام سے متعلق ایک قومی سیمینار کا انعقاد کیا، جس کا مقصد خطرات سے دوچار سرکاری انفراسٹرکچر اور عمارتوں کا جائزہ اور آڈٹ کرنا تھا۔

یہ اقدام وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت مون سون سیزن 2026 کے لیے 300 روزہ جامع تیاری اور ردِعمل کا منصوبہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔

اس اقدام کا مقصد احتیاطی اور خطرات سے باخبر حکمتِ عملی کے ذریعے پاکستان کے سرکاری انفراسٹرکچر کی حفاظت، مضبوطی اور طویل المدتی پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔ اس موقع پر این ڈی ایم اے نے انفراسٹرکچر آڈٹ پروگرام کے منظور شدہ قومی فریم ورک کو پیش کیا، جسے وفاقی اور صوبائی سطح پر نافذ کیا جائے گا۔

سیمینار سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب اور ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات کے دوران بھاری جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جس کی بڑی وجہ کمزور اور غیر معیاری انفراسٹرکچر ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آفات کے بعد ردِعمل پر مبنی حکمتِ عملی کے بجائے ایسے نظام کی فوری ضرورت ہے جو ڈھانچوں کی کمزوریوں کی بروقت نشاندہی اور پیشگی تدارک پر مرکوز ہو۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد آڈٹ فریم ورک کے بارے میں مشترکہ فہم پیدا کرنا، کردار اور ذمہ داریوں کو واضح کرنا، اور حکمتِ عملیوں و ٹائم لائنز کو ہم آہنگ بنانا ہے تاکہ قدرتی آفات کے دوران ملک بھر میں اہم انفراسٹرکچر کی منظم جانچ اور مضبوطی کو یقینی بنایا جا سکے۔

سیمینار میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام، بلڈنگ کنٹرول اور ترقیاتی اداروں کے نمائندوں، تکنیکی ماہرین، انجینئرز، تعلیمی ماہرین اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔

تقریب کے اختتام پر تمام اسٹیک ہولڈرز نے مضبوط اور محفوظ انفراسٹرکچر کے قومی وژن کو عملی اقدامات میں ڈھالنے کے عزم کا اظہار کیا۔

Exit mobile version