سندھ طاس معاہدے کے تحت حقوق کے تحفظ کے لیے پاکستان کے تمام ضروری اقدامات کا اعادہ

دفترِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹر ٹریٹی) کے تحت اپنے جائز اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔بھارتی وزیر خارجہ کے پاکستان سے متعلق حالیہ بیانات پر میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ نیک نیتی اور بھاری قیمت ادا کر کے طے پانے والا ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اس معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی کرتا ہے تو اس سے نہ صرف علاقائی استحکام کو نقصان پہنچے گا بلکہ ایک ایسے ریاست کے طور پر بھارت کی ساکھ بھی متاثر ہوگی جو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے احترام کا دعویدار ہے۔

ترجمان نے بھارتی وزیر خارجہ کے غیر ذمہ دارانہ الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک بار پھر ایک ایسے ہمسائے کے طور پر اپنے تشویشناک کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے جو دہشت گردی کو فروغ دیتا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرتا ہے۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ خطے میں بالخصوص پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں اور یہ حقائق عالمی سطح پر معروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمانڈر کلبھوشن جادھو کا معاملہ پاکستان کے خلاف منظم اور ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے۔ اس کے علاوہ سرحد پار کارروائیاں، پراکسی عناصر کے ذریعے تخریبی سرگرمیاں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی خفیہ معاونت بھی باعثِ تشویش ہیں، جو ہندوتوا کی انتہا پسند سوچ اور اس کے پرتشدد حامیوں کے طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہیں۔

Exit mobile version