پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں رفح کراسنگ کو یک طرفہ طور پر کھولنے اور غزہ کے مکینوں کو مصر منتقل کرنے کی بات کی گئی ہے۔
ایک مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اس مؤقف پر زور دیا کہ ایسی کوئی بھی کارروائی ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔
بیان میں وزرائے خارجہ نے خطے میں امن کے قیام کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ’’ٹرمپ پلان‘‘ پر بلا تاخیر مکمل پیش رفت انتہائی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیے
-
پاکستانی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی عراق کی نئی قیادت سے ملاقاتیں، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق -
سلامتی کونسل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امن کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو مؤثر طریقے سے دور کرنا چاہیے، پاکستان -
پاکستان کا یوکرین تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور -
بلوچستان کی ترقی کے لیے وفاقی حکومت کا بھرپور تعاون کا عزم -
وزیرِاعظم کا جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ -
دریائے سندھ کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی کسی معاہدے کو تکبر کے ذریعے معطل کیا جا سکتا ہے: بلاول بھٹو زرداری
